گستاخانہ مواد پر مبنی فیس بک پوسٹ سے فسادات پھوٹ پڑے

220

ڈھاکا: بنگلادیش میں گستاخانہ مواد پرمبنی فیس بک پوسٹ کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں میں 4 افراد جاں بحق 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق غیر مسلم نےسماجی رابطے کے سائٹ  فیس بک  پر گستاخانہ مواد پوسٹ کیا جس پر ہزاروں افراد سراپا احتجاج ہوکر سڑکوں پر نکل آئے اور برہان الدین میں ہزاروں افراد نے جمع ہوکر احتجاج کیا گستاخی کے مرتکب شخص کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔

Related image

بنگال پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے ملزم کی گرفتاری کیلئے پولیس پر بھی حملہ کیا جس پر ہم نے اپنے دفاع میں ہوائی فائرنگ کی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران 4 مظاہرین جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔

Related image

واضح رہے کہ بنگلادیش میں 2016 میں بھی فیس بک پر مذہبی دل آزاری پر مبنی ایک پوسٹ پر ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جبکہ 2012 میں بھی ایسی ہی صورت حال درپیش ہوگئی تھی جس پر بڑے پیمانے احتجاجی مظاہرے کیے گئےتھے۔

دوسری جانب پولیس ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔