قدرت کا تحفہ

303

 

فرخندہ شاہین

قرآن کریم میںمتعدد مقامات پر کھجورکا ذکرموجودہے ۔ سورۃ الرحمن کی دسویں آیت میں ذکر فرمایا گیا’’ میوے اور غلاف والی کھجوریں‘‘ میوے کے تذکرے کے بعد کھجور کا ذکر اس کی افادیت و اہمیت کو ظاہر کرتا ہے جس کی وضاحت نبی کریم ؐ کے ان ارشادات سے ہوتی ہے ۔
حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ فرماتے ہیں کہ ’’ میں نے نبی کریمؐ کو دیکھا کہ آپ ؐ تازہ کھجوریں اورککڑی ایک ساتھ تناول فرماتے تھے ۔ ‘‘ کھجور اورککڑی کا استعمال صرف ایک اتفاق نہ تھا بلکہ نبی کریم ؐ نے اپنے اس عمل سے کھجور کی گرم تاثیر اورککڑی کی سرد تاثیر کو معتدل کرنے کا طریقہ سکھایا ۔
آپ ؐ مکھن کے ساتھ کھجور کوبہت پسند فرماتے تھے ۔ کھجور پر ہونے والی جدید سائنسی تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس میں پائے جانے والے معدنی نمکیات ، قلب کی حرکات کو منظم رکھتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک صحابی ؓرسول کریم ؐ کے سینے میں تکلیف ہو جانے کی صورت میں نبی کریم ؐ نے12 عدد کھجوریں گٹھلیوں سمیت پیس کر پلانے کی ہدایت فرمائی جس سے ان صحابی ؓ کا دردختم ہو گیا ۔ سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیںکہ میں نے اپنے والد سے سنا ہے کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا’’جس نے صبح اٹھ کر عجوہ کھجور کے دانے کھائے اس دن اسے سحر( جادو) اور زہر بھی نقصان نہیں دیں گے۔‘‘
جگر کی بیماریوں میں اکثر مختلف زہریلے اثرات سبب بنتے ہیں ۔ ان کے علاج کے لیے نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ ’’ کھجور میں شفا ہے اگر نہار منہ کھائی جائے تو اس میں زہریلے مادوں کا تریاق ہے ۔ یرقان کی بیماری میں صفراکی نالیوںمیں رکاوٹ آ جاتی ہے ۔ اس کے لیے طب نبوی ؐ کے مطابق کھجور ہی اس کاعلاج ہے ۔
اس کے علاوہ کھجور کے استعمال سے اہم فائدہ یہ ہوتا ہے کہ خون میں کولیسٹرولکی سطح نہیں بڑھتی کولیسٹرول کی سطح اگرجسم کے خون میں بڑھ جائے توہارٹ اٹیک کا باعث بن سکتی ہے ۔
دماغی کام کرنے والوںکے لیے بھی کھجور بہت موزوں ہے کیونکہ اس میں موجود لحمیات ، وٹا منز اور منرلز دماغ اعصاب کو تقویت بخشتے ہیں ۔
عرق کھجور
7عدد کھجوریں،500 گرام دودھ اور حسب ذائقہ چینی لیں۔ کھجوروں کو دھو کر دودھ میں ڈال دیں ۔ ہلکی آنچ پر اس وقت تک ابالیں کہ گھٹ کرنصف رہ جائے ، پھر چینی ملا کر گٹھلیاں الگ کر دیں ۔ یہ طاقتور مشروب دماغ تیز کرنے اور رمضان میںگرمی کی شدت دور کرنے کے لیے نہایت موزوں ہے ۔