لبنان میں حکومت مخالف مظاہرے؛ اتحادی جماعت نے علیحدگی کا اعلان کردیا

193

بیروت: ملک بھر میں مسلسل تیسرے روز جاری احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر لبنان حکومت کی اتحادی جماعت حکومت سے الگ ہوگئی۔

“فورسز جماعت” لبنان حکومت کی اتحادی  جماعت تھی لیکن ملک بھر میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے باعث فورسز جماعت نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے۔

سمير جعجع، جو کہ اتحادی جماعت کے سربراہ ہیں، کا کہنا ہے کہ ہمیں اب یقین ہوچلا ہے کہ لبنان کی حکومت ملک میں جاری کشیدہ صورتحال سے نمٹنے کے قابل نہیں رہی، لہٰذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم حکومت سے الگ ہو رہے ہیں۔

سمير جعجع نے یہ بھی بتایا ہے کہ کابینہ میں شامل ان کی جماعت کے چار وزراء نے بھی اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

حکومت مخالف مظاہرے کیوں ہو رہے ہیں؟

حکومت کی ناقص معاشی اور اقتصادی پالیسیوں کے خلاف لبنان کے عوام ملک بھر میں گزشتہ جمعہ سے حکومت مخالف مظاہرے کر رہی ہے۔

حکومت 2020 کا بجٹ لانے کی تیاری کر رہی ہے جس میں تمباکو، گیسولین اور سماجی رابطے کی معروف ایپلیکیشن واٹس ایپ کی کالنگ پر نئے ٹیکس لگانے پر غور کیا جا رہا ہے جس کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہیں۔

واضح رہے کہ لبنان پر قرضوں کا حجم قریباً 86 ارب ڈالرز ہے جو کہ ملکی جی ڈی پی کا 150 فیصد ہے۔ جی ڈی پی کے حساب سے قرضے لینے والے ممالک میں لبنان تیسرے نمبر پر ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی قرض دہندگان یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ لبنان ان معاشی تبدیلیوں کو نافذ کرے جس کی ضمانت اس نے 2018 میں پیرس میں ہونی والے معاشی کانفرنس میں دی تھی تاکہ وہ مزید قرض لینے کا اہل ہو۔

اس معاشی کانفرنس میں قرض دہندگان نے لبنان کو 11 ارب ڈالرز دینے کا وعدہ کیا تھا اور ساتھ ہی لبنان کی حکومت سے اس بات کی ضانت لی تھی کہ قرض بدعنوانیوں کی نزر نہ ہو۔

لبنان سے جن معاشی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اس میں ٹیکس کی شرح میں اضافہ بھی ہے جسے عوام نے ماننے سے انکار کردیا ہے اور ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری نے گزشتہ روز ملک میں جاری عوامی مظاہروں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے لیے اپنے حکومتی اتحادیوں کو متفقہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے 72 گھنٹے کی مہلت بھی دے رکھی ہے۔