کوئی غلط فہمی میں نہ رہے‘اسلام آباد پر چڑھائی ہوئی تو بھرپورکارروائی کریں گے‘ وزیردفاع

133
اسلام آباد: وزیر دفاع پرویز خٹک وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے ساتھ پریس کانفرنس کررہے ہیں
اسلام آباد: وزیر دفاع پرویز خٹک وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے ساتھ پریس کانفرنس کررہے ہیں

اسلام آباد( مانیٹر نگ ڈ یسک +خبر ایجنسیاں)وزیر دفاع اور اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے‘اپوزیشن نے اسلام آباد پر چڑھائی کی توبھرپورکارروائی کریںگے،اپوزیشن مذاکرات کی میز پر نہ آئی تو افراتفری ہوگی جس کی ذمے داری اپوزیشن پر ہوگی۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور بات چیت پر یقین رکھتے ہیں، تمام اپوزیشن جماعتوں کو پیغام بھیجا ہے کہ مذاکرات کی میز پر آئیں، اپوزیشن کے پاس کوئی ڈیمانڈ ہے تو آکر بات کرے، مذاکراتی میز پر نہیں آئیں گے تو اس سے افراتفری ہوگی جس کی ذمے داری اپوزیشن پر ہوگی، حکومتی ایکشن کے بعد ہمیں الزام نہ دیا جائے۔پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن والے مہنگائی کی بات کریں تو ہم بھی بات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن وزیراعظم کا استعفا ناممکن ہے،اپوزیشن کو ڈر ہے کہ عمران خان نے 5برس گزار لیے تو ان کا کیا ہو گا،وزیراعظم سے استعفے کے مطالبے کا مطلب ہے یہ چڑھائی کرنا چاہتے ہیں، حکومت کسی کا جانی و مالی نقصان نہیں چاہتی، اگر اسلام آباد پر چڑھائی ہوئی یا کسی نے حکومت کو چیلنج کیا تو حکومت اپنی رٹ قائم کرے گی اور بھرپور ایکشن لیا جائے گا،پاکستان کا آئین کہتا ہے مسلح جتھوں کی اجازت نہیں۔وزیردفاع نے کہا کہ اپوزیشن انتخابی دھاندلی کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکی، کوئی ایک کاغذ ہی سامنے لے آئے، یہ لوگ بات چیت کے لیے تیار نہیں ، لگتا ہے سامنے کچھ اور پیچھے کچھ اور ہے، اپویشن کی وجہ سے کشمیر ایشو پیچھے چلا گیا ہے بھارتی چینل کھولیں تو لگتا ہے وہ ہماری صورتحال سے خوش ہورہے ہیں، انہوں نے مودی کو خوش کرنا اور ملک دشمنی کرنی ہے تو ہم سے بات نہیں کریں گے۔وزیردفاع کا کہنا تھا کہ کوئی غلطی فہمی میں نہ رہے کہ حکومت کو کوئی خطرہ ہے، ہم نے ساری عمر جلسے جلوس دیکھے، اپوزیشن والے اسلام آباد زبردستی آنا چاہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے یہ ڈکٹیٹر بننا چاہتے ہیں، ملک کے بچاؤ کے لیے ہر حد تک جائیں گے، اس کے بعد جو ہو گا وہ پھر آپ سب دیکھیں گے۔شفقت محمود کا کہنا تھا کہ مولانا کے کچھ بندے مدارس کے بچوں کو سیاست میں گھسیٹنا چاہتے ہیں، گزارش ہے مدارس کے بچوں کو سیاست میں نہ لایا جائے، مولانا فضل الرحمن کی وڈیوز دیکھی ہیں وہ اداروں پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں، یہ برداشت نہیں کیا جائے گا، ہمیں کوئی خوف نہیں صرف پاکستان کی خاطر بات کر رہے ہیں۔علاوہ ازیںمیڈیا رپورٹ کے مطابق جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے نمٹنے کے لیے حکومت نے منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ذرائع کے مطابق آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج طلب کی جا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر سرکاری عمارتوں اور اہم تنصیبات پر فوج تعینات کرنے پربھی غورکیا جارہا ہے جب کہ فوج طلبی کا حتمی فیصلہ وزارت داخلہ کرے گی۔