تبدیلی میں اب مزید تبدیلی ناگزیر ہے‘پی ٹی آئی حکومت کومکافات عمل کا سامنا ہے‘ سراج الحق

132
امیر جماعت اسلامی اکستان سینیٹر سراج الحق منصورہ میںاسلامی جمعیت طلبہ کے ذمے داران کی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کررہے ہیں
امیر جماعت اسلامی اکستان سینیٹر سراج الحق منصورہ میںاسلامی جمعیت طلبہ کے ذمے داران کی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کررہے ہیں

لاہور( نمائندہ جسارت )امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ تبدیلی میں اب مزید تبدیلی ناگزیر ہے۔قوم کاسمیٹک تبدیلی کی بجائے حقیقی تبدیلی چاہتی ہے ۔چند وزراء کی تبدیلی مسئلے کا حل نہیں ۔پی ٹی آئی حکومت کو مکافات عمل کا سامنا ہے ۔تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ۔جب ترقی کا پہیہ الٹا گھومتا ہے تو حکومتوں کی الٹی گنتی شروع ہوجاتی ہے ۔گلا سڑا فرسودہ نظام دکھوں کا مداوہ نہیں کرسکتا ۔خالی نعروں اور پھیکی سیاست سے غریب کا پیٹ نہیں بھرتا۔طلبہ مستقبل کی قیادت ہیں،خود کو تیار کرنے کیلیے انہیں لائبریریاں اور لیبارٹریاں آباد کرنا ہونگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں اسلامی جمعیت طلبہ کے مختلف سطح کے ذمہ داران کی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر معراج الھدیٰ صدیقی بھی موجود تھے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت اپنے خلاف احتجاج کے اعلان ہی سے حواس باختہ ہوگئی ہے ۔ حکومت نے آج تک سوائے جھوٹے وعدوںاور خوشنما نعروں کے کچھ نہیں کیا۔عوام حکومت سے خائف ،ہمدردیاں نفرتوں اور تعلق لاتعلقی میں بدل رہے ہیں ۔سبزباغ دکھانے والوں کو دن میں تارے دکھائی دینے لگے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی اقتدار پر گرفت دن بدن ڈھیلی پڑرہی ہے ۔تھانے اور پٹوارخانے پہلے کی طرح بک رہے ہیں۔سابقہ حکومتوں کے دور میں ناجائز کام کیلیے اور اب جائز کام کیلیے بھی رشوت دینا پڑتی ہے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں ،لاکھوں کشمیریوں نے پاکستان کیلیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے لاکھوں نوجوان بھارتی جیلوں میں وحشت اور درندگی کا سامنا کررہے ہیں ،76دنوں سے کشمیر میں ایک قیامت برپا ہے مگرہمارے حکمران خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم بیدار اور کشمیریوں کے ساتھ ہے ۔حکومت کا فرض تھا کہ کشمیر کے مسئلہ پر قوم کو متحد کرتی ،کشمیر کی آزادی کا ایک روڈ میپ طے کرکے جہاد کا اعلان کرتی اور کشمیریوں کو بھارت کے خونی پنجہ سے آزاد کرانے کیلیے آخری حد تک جاتی ۔ مگر حکومت نے اڑھائی ماہ میں ایک قدم آگے نہیں بڑھایا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ سڑکیں ،پل اورپلازے کھڑے کرنا آسان اور قوموں کی تعمیر مشکل کام ہے ۔فرد اور حکومت کے ساتھ مقابلہ آسان اور نظام کو بدلنا جان جوکھو ں کاکام ہے ۔انبیاء کرام کی بعثت کا مقصد ظلم و جبر کے نظام کو بدل کر عدل و انصاف اور اخوت و بھائی چارے کے نظام کا غلبہ تھا۔انہوں نے کہا کہ آج عالم اسلام کو چاروں طرف سے گھیرلیا گیا ہے ۔ٹرمپ اور مودی نے ریڈیکل اسلام کے خلاف مشترکہ جنگ کا اعلان کیا ہے ۔کفر کی طاقتیں قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کو ریڈیکل اسلام قراردیتی ہیں۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت مدارس میں ریفارمز کی باتیں کرتی ہے مگر مدارس میں پڑھنے والے لاکھوں طلبہ کو ایک پیسہ دینے کو تیار نہیں ۔حکومت کی سرکاری تعلیمی اداروں پر بھی کوئی توجہ نہیں ،ہائر ایجو کیشن اور یونیورسٹیوں کے بجٹ میں کمی کردی گئی ہے ۔تعلیمی بجٹ میں کمی سے غریب اور متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات اعلیٰ تعلیم سے محروم ہوگئے ہیں۔