اسٹیٹ بینک بینکوں،مالیاتی اداروں کو ریفنڈ بانڈز قبول کرنے کی ہدایت کرے،آغا شہاب احمد خان

179

ریفنڈ بانڈز قبول نہ کرنے سے برآمدکنندگان کو سرمائے کی شدید قلت کاسامنا ہے،صدرکا گورنر اسٹیٹ بینک کو خظ

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی) کے صدر آغا شہاب احمد خان نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے درخواست کی ہے کہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو یہ ہدایات دیں جائیں کہ سیلز ٹیکس ریفنڈ بانڈز فوری طور پر قبول کرنا شروع کریں تاکہ برآمدکنندگان سیلزٹیکس 1990کے سیکشن67 اے کی دفعات کے تحت اپنے قانونی ریفنڈز لازمی طور پر حاصل کرسکیں۔انہوں نے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کو ارسال کیے گئے ایک خط میں کہا کہ تاجربرادری سیلز ٹیکس ریفنڈ کی بروقت ادائیگی کا یقینی طور پرخیرمقدم کرے گی کیونکہ اس سے پریشان حال برآمدکنندگان کو سکھ کا سانس میسر آئے گا جو زائد کاروباری لاگت،افراط زر اور شدید مسابقت کی فضا میں اپنی بقا قائم رکھنے کے لیے سخت جدوجہد کررہے ہیں۔
آغا شہاب نے برآمدکنندگان کو سیلز ٹیکس ریفنڈ کے حوالے سے درپیش مسائل پر توجہ مبذول کرواتے ہوئے زوردیا کہ اس صورتحال نے سرمائے کی قلت کی وجہ سے برآمدی صنعتوں کے لیے مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے جن کی وجہ سے ان کے لیے پیداوار میں کمی کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں اور وہ کسی بھی سے طرح بین الاقوامی مارکیٹوں میں اپنا حصہ برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ صورتحال اتنی زیادہ خراب ہوگئی ہے کہ ہمارے برآمدکنندگان سرمائے کی قلت کی وجہ سے برآمدات بڑھانے کے لیے نئی مارکیٹیں تلاش کرنے سے قاصر ہیں لہٰذا اگربروقت اس مسئلے پر توجہ نہ دی گئی تو پاکستان کی معیشت پر اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے جو کہ پہلے ہی شدید دباو¿ کا شکار ہے اورموجودہ تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے سخت جدوجہد کی جا رہی ہے ۔
صدر کے سی سی آئی نے خط میں بتایا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) نے دعوےداروں کو بانڈز تو جاری کیے اور سیلز ٹیکس ایکٹ1990کے سیکشن67اے کی دفعات کے مطابق ان بانڈز کو ملک کی مارکیٹوں میں آسانی سے ٹریڈ کیا جاسکتا ہے جسے بینکوں کی جانب سے متبادل کے طور پر قبول کیا جائے گا تاہم متعلقہ ایکٹ میں مخصوص ہدایات کے باوجود ان بانڈز کو نہ ہی آزادانہ طور پر مارکیٹ میں ٹریڈ کیا جاسکاہے اور نہ ہی بینکوں کی جانب سے انہیں قبول کیا جارہاہے جس کی وجہ سے برآمدکنندگان کے لیے سرمائے کی کمی کے مسائل پیدا ہورہے ہیں اور وہ برآمدی آرڈرز کی تکمیل سے قاصر ہیں لہٰذا اس صورتحال کے مزید خراب ہونے کے خدشات ہیں اور برآمدات میں مزید کمی کے امکانات ہیں جبکہ اس کے نتیجے میں ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی کمی واقع ہوگی جس پر گورنر اسٹیٹ بینک کی خصوصہ توجہ کی ضرورت ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جلد ازجلد قانونی شقوں کی تکمیل کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔اب تک تقریباً ایک ماہ گزر چکا ہے لیکن برآمدکنندگان کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے ریلیف کے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔انہوں نے کہاکہ برآمدکنندگان پہلے ہی تخلیقی تباہی کی وجہ سے مشکل دور سے گزر رہے ہیں جس نے کئی پاکستانی مصنوعات کو بین الاقوامی مارکیٹوں میں متروک کردیا ہے جبکہ زائدکارروباری لاگت،غیرمستحکم صنعتی سرگرمیوں اور زائد افراط زر ودیگر مسائل خصوصاًپھنسے ہوئے ریفنڈ کلیمزکی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہیں لہٰذا ترجیحی بنیادوں پر ا س مسئلے کو حل کرنے دعوےداروں کے قانونی ریفنڈز کی واپسی کو یقینی بنانے کے ضرورت ہے۔