نقطہ نظر

168

لنگر اور طفل تسلی کے بجائے روزگار
الیکشن سے قبل عمران خان نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ معیشت آئی ایم ایف کے حوالے نہیں کریں گے۔ اداروں کی نج کاری نہیں کریں گے۔ وزیراعظم بنتے ہی کیا ماجرا ہو گیا۔ اپنے وزیر خزانہ کو ہٹا کر آئی ایم ایف کے فرشتے عوام کی گردن پر مسلط کردیے۔ آئی ایم ایف کی عوام دشمن شرائط کرمان لی گئیں۔ اور معاشی خوشحالی کے شادیانے خود ہی بجا کر۔۔ خود ہی محو رقص ہیں۔ عمران خان کو گوش گزار کیا گیا کہ آپ کے معاشی درندے عوام کا خون چوس رہے ہیں۔ تو وہ ناراض، برہم۔۔ کہ عوام میں صبر نہیں ہے۔ مدینہ جیسی ریاست بنانے کے لیے پہلے عوام کا خون چوسنا ضروری ہے۔ اس لیے ہمارے منتخب کردہ آئی ایم ایف کے فرشتے عبد الرزاق داؤد اور حفیظ شیخ ’’وزیر خزانہ و مشیر‘‘ پاکستان کے عوام کے حلق سے نوالہ بھی چھین کر آئی ایم ایف کا رزق بڑھا رہے ہیں۔ اس کے مفادات کا تحفظ کرکے پاکستان کی معیشت کو شیطانی معیشت کے شکنجے میں کسنے میں مصروف ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے باقر رضا نے آتے ہی اپنی صلاحیتوں کے ایسے جوہر دکھائے۔ ڈالر 160سے اوپر۔ تاریخ کی بلند ترین سطح، روپیہ زوال کی پست ترین سطح پر پہنچادیا۔ یوں پاکستان اسٹیٹ بینک بھی آئی ایم ایف کی رضا میں رنگ دیا گیا۔موجودہ معاشی پالیسی سراسر نظام مدینہ سے متصادم ہیں خدا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کا پیش خیمہ ہیں۔
حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کے سبب صرف ایک سال میں مہنگائی 143فی صد بڑھی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمران عوام سے مخلص، ہمدرد، وفادار رہنے کے بجائے امریکا کے زیادہ مخلص، وفادار رہے ہیں۔ یوں عوام تعلیم، صحت، صفائی، صاف پانی جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم، مہنگائی کے طوفان سے نبردآزما ہیں۔ ہم آرمی چیف، وزیر اعظم سے التماس کرتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے شیطانی شکنجے سے پاکستان کی معیشت کو آزاد کرائیں۔ حفیظ شیخ، عبدالزاق داؤد، باقر رضا کو عہدے سے فارغ کیا جائے۔ پاکستان، ملک و ملت کے مفاد کا تحفظ کرنے والے اہل افراد کو معاشی ذمے داری سونپی جائے۔ ہم امید کرتے ہیں۔ عمران خان اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرکے عوام کو مہنگائی کے طوفان سے نجات دلائیں گے۔ عوام کو طفل تسلیوں، لنگروں کے بجائے روزگار فراہم کیا جائے۔
صائمہ وحید۔ ناظم اباد، کراچی
تربیت بذریعہ ٹی وی
ڈراموں اور الیکٹرونک میڈیا کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ہمارا ٹی وی اپنی ابتدا ہی سے ہمارے معاشرے پر بڑے طاقتور طریقے سے اثرانداز ہوا ہے۔ ٹی وی ڈراما بہت عقیدت و احترام سے گھر والوں کے ساتھ دیکھا جاتا تھا، گلیاں سونی ہو جاتی تھیں، ایسا بھی سننے میں آیا ہے کہ انہماک کا یہ عالم تھا کہ پچھلے دروازے سے چور گھر کا صفایا کر گئے اور گھر والوں کو خبر تک نہ ہوئی۔ہمارے معاشرے کی سوچ کو تبدیل کرنے میں اس صنف ادب کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اسی کی دہائی کے بے شمار ڈراموں کا یہی موضوع ہوتا تھا کہ ایک دوست امیر جبکہ دوسرا متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ اپنے حالات کا امیر دوست کے حالات زندگی سے موازنہ کرکے احساس کمتری کا شکار ہوتا اور باپ کی ایمانداری کو موردِ الزام ٹھیراتا نظر آتا تھا۔ پھر یہ بھی پیغام ٹی وی پروگرام کے ذریعے سنجیدگی یا طنز و مزاح کے نام پر پہنچایا گیا کہ ’’تیزی سے امیر کیسے بنا جائے‘‘۔ جس کا اثر عوام نے خوب قبول کیا اور عام گفتگو میں ان ڈراموں کی مثالیں دی جانے لگیں۔ ہمسائے اگلے دن آپس میں بڑی فرصت سے پچھلی رات دیکھے گئے ڈراموں پر بحث کرتے۔ اس وقت کی بے ضرر تفریح نے ایسا اثر کیا کہ حقیقتاً گھروں میں اولاد اسی طرح ایماندار اور باشعور والدین کو یہ طعنہ دینے لگے کہ ’’آپ نے ہمارے لیے آج تک کیا ہی کیا ہے؟‘‘۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ ایماندار افراد زندگی کے ہر شعبے میں ناپید ہوگئے ہیں۔ آپ کسی مزدور، ماسی، گارڈ، یا کسی بھی اہم عہدے پر موجود شخص کو دیکھ لیں سب صرف پیسے کی حرص میں مبتلا ہیں۔ سب یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح بغیر محنت اور ناقص کارکردگی کے باوجود ان کو پیسے ملتے رہیں۔ قوم کی اصلاح کا کام میڈیا ہی کررہا ہے۔ تمام اچھی اقدار کو معاشرے میں زندہ کرنے کے لیے اچھے ادیب، سائیکالوجسٹ، صالح سوچ رکھنے والے افراد کو سامنے لایا جائے اور قوم کی بہتری کا بیڑا اٹھایا جائے۔
ذکیہ بتول، کراچی