حکومت کو مزید وقت دینا ملکی سالمیت سے کھیلنے کے مترادف ہوگا‘ بلاول

68
کراچی:پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری جلسے سے خطاب کررہے ہیں
کراچی:پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری جلسے سے خطاب کررہے ہیں

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سلیکٹرز ملک میں جمہوریت بحال کریں۔ کراچی کے لوگوں نے خان کو گھر بھیجنے کا فیصلہ دے دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں بھی خان کے خلاف متحد ہو گئی ہیں۔ بلاول نے کہا کہ عمران خان کو اپنے ظلم کا حساب دینا ہو گا ، اب گھر جانا ہو گا۔پیپلز پارٹی عوام کی طاقت سے سلیکٹڈ حکمرانوں کو اٹھا کر باہر پھینک دے گی ، سلیکٹرز کو حکمرانوں کی پشت پناہی چھوڑنا ہو گی۔ اب ہم خاموش نہیں رہ سکتے ، خان کی دھاندلی زدہ حکومت کو بے نقاب کرکے رہیں گے۔ بلاول نے کہا کہ سیاسی مخالفین کے خلاف نیب کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایسے ہتھکنڈے ماضی میں بھی استعمال کیے گئے۔ ہم نہ پہلے ڈرے تھے اور نہ آئندہ ڈریں گے۔ بلاول نے کہا کہ لاڑکانہ میں پہلے بھی دھاندلی ہوئی اور اب دوبارہ دھاندلی کی گئی۔ ہم دھاندلی پر خاموش نہیں رہیں گے اور اپنی سیٹ واپس لینے کے لیے ہر فورم پر جائیں گے۔ موجودہ حکومت کو مزید وقت دینا ملک کی سالمیت سے کھیلنے کے مترادف ہوگا، حکومت نے ملک کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے، پاکستان ناکام ریاست کی جانب بڑھ رہاہے، وقت آگیا ہے سلیکٹڈ وزیراعظم کو گھر بھیجنے کیلیے فیصلہ کن سیاست کی جائے، آج تاجر ، کسان، ملا سب سڑکوںپر ہیں لوگ نیا پاکستان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں، پاکستان مسائلستان بن چکا ہے، سی پیک پر کام رک چکا ہے، نومبر میں پنجاب میں انٹری دیںگے، پورے ملک کے دورے کروں گا، عمران خان کی حکومت کو بے نقاب کروںگا، عمران خان میں ملک چلانے کی اہلیت نہیں ہے، عمران خان قوم آپ کو معاف نہیں کریگی، آپ کو اب گھر جانا ہوگا، عمران خان سندھ کو اس کا حصہ نہیں دے رہے، عمران خان نے کراچی کو دھوکا دیا ہے کراچی والوںسے کیا ہوا کوئی وعدہ پورا نہیں کیا اور کراچی والوںکو لاوارث چھوڑ دیا ہے، وفاق سے کراچی کاحصہ چھین کر لوں گا، میں کراچی میں پیدا ہوا، کراچی کا بیٹا ہوں، ہم کراچی کے مسائل خود حل کریںگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مزار قائد پر پیپلز پارٹی کراچی ڈویڑن کے تحت سانحہ شہداء￿ کارسازاور سلیکٹڈ حکومت کی ناکامی کے خلاف جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور پیپلز پارٹی کے مرکزی اور صوبائی رہنما ، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی ، سینیٹر اور پیپلز پارٹی کراچی ڈویڑن کے رہنما بھی موجود تھے۔ بلاول زرداری نے اپنی تقریر کا آغاز ان اشعار سے کیا ” شہادتوں کے علم جب بلند ہو جائیں تو جہاں میں رسوا یزید ہوتے ہیں‘عظیم باپ کی بیٹی بتا گئیں کہ حسین والے شہید ہوتے ہیں۔ ” بلاول زرداری نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے جس سوچ اور فلسفے سے اپنا سفر شروع کیا ، اسے آج پچاس سال بیت گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے 50 سالہ سیاسی سفر میں اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ سانحہ کارساز کا غم اسی سفر میں ہمیں دیکھنا پڑ ا۔ سانحہ 18 اکتوبر کی تلخ یاد میں آج بھی ہمارے ذہنوں میں زندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ 18 اکتوبر کے شہداء￿ کو ہم بھولے ہیں نہ بھول سکتے ہیں۔ 77 شہداء￿ کی قربانیوں کی مثال نہیں ملتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 2 ہزارکا سال ایک تاریک اور عوام کے لیے بھاری سال تھا۔ ایک طرف ایک آمر خدا بن کر حکمران بنا ہوا تھا اور دوسری طرف آمر کے ساتھی ملک میں خون کی ہولی کھیل رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو اپنی جان قربان کر گئیں مگر آمر کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ وہ اپنی جان کی قربانی دے کر بھٹو کے فلسفے کو امر کر گئیں۔