حکمران خود سیاسی شہادت کا رتبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں‘ سراج الحق

76
لاہور:امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق ننکانہ صاحب میں پریس کانفرنس کررہے ہیں‘ جاوید قصوری اور سکھ رہنما سروپ سنگھ بھی موجود ہیں
لاہور:امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق ننکانہ صاحب میں پریس کانفرنس کررہے ہیں‘ جاوید قصوری اور سکھ رہنما سروپ سنگھ بھی موجود ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ۔حکمران خو د چاہتے ہیں کہ انہیں سیاسی شہید کا رتبہ مل جائے ۔ تبدیلی کا کھیل مکمل ناکام ہونے پر تبدیلی سرکار خود بھی پریشان ہے۔عوام کے ساتھ ساتھ اب اس حکومت کو لانے والے بھی پریشان ہوگئے ہیں۔موجودہ حکومت بھی سابق حکومتوں کے اسٹیٹس کو کا حصہ ہے ۔حکومت میں ساری کابینہ پرویز مشرف کی ہے ۔ عوام حکومت اور اس کی پالیسیوں سے بے زار ہوچکے ہیں۔تبدیلی کے نام پر عوام سے بدترین مذاق کیا گیا ہے ۔لوگ پوچھتے ہیں کہ ملک و قوم سے یہ کھیل کھیلنے والوںکو کیا ملا ہے ۔جن اداروں کا نام احترام سے لیا جاتا تھا آج ہرجگہ ان پرتنقید کی جارہی ہے ۔مودی مسلمانوں ،سکھوں اور عیسائیوں کا مشترکہ دشمن ہے ۔بھارت میں مساجد کے ساتھ ساتھ گرجاگھروں اور گرودواروںکو بھی جلایا اور مسمار کیا جارہا ہے ۔کشمیری 75دن سے اجتماعی قبر میں ہیں اور حکمران ڈنگ ٹپائو پالیسی پر گامزن ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ننکانہ صاحب میں کارکنوں کے اجتماع سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب اور ضلعی امیر حافظ محمد حبیب ضیا اور سکھ کمیونٹی کے رہنما سروپ سنگھ بھی موجود تھے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک ایک دلدل میں پھنس گیا ہے ۔22کروڑ عوام معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔لوگوں کے چہروں پر مایوسی اور اضطراب ہے۔ مہنگائی اوربے روز گاری نے عوام سے دن کا سکون اور راتوں کی نیند چھین لی ہے ۔وفاقی وزیر 4سو محکموں کو بند کرنے کی خبریں سنا رہے ہیںاور حکومت سے نوکریاں مانگنے والے نوجوانوں کو کاہلی اور سستی کے طعنے دے رہے ہیں۔خود وزیر اعظم کہتے ہیں کہ قوم بڑی بے صبر ہے 14ماہ ہی میں تبدیلی نہ آنے کا گلہ کرنے لگی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ادارے بند ہورہے ہیں اور دوسری طرف اسٹیٹ بینک ڈالر کی قیمت میں مزید اضافے کی رپورٹیں دے رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب تک ناجائز ذرائع سے حرام کی دولت اکٹھی کرنے والوں سے پیسہ واپس نہیں لیا جاتا اور سودی معیشت سے توبہ نہیں کی جاتی معاشی حالات نہیں سدھریں گے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیر کی آزادی پاکستان کی بقا ، سا لمیت اور تحفظ کے لیے ضروری ہے مگر حکمران اس طرف توجہ دینے کے بجائے نان ایشوز میں الجھے ہوئے ہیں ۔حکومت کا فرض تھا کہ کشمیر کے مسئلے پر قوم کو متحد کرتی مگر حکومت نے قومی وحدت کو سبوتاژ کیا۔ہم حکومت سے کہتے ہیں کہ اگر آپ نے کشمیر کا سودا نہیں کرلیا تو آزاد کشمیر پر آئے روز ہونے والے حملوں کا جواب کیوں نہیں دیتے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام سے جتنے وعدے کیے تھے ان میں سے کوئی ایک بھی پورا نہ کرسکی ۔