پاکستان نے مثبت اقدامات کیے‘ مزید 4ماہ گرے لسٹ میں رہے گا‘ صدر ایف اے ٹی ایف

147

پیرس(خبرایجنسیاں) فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کومزید 4ماہ ’گرے لسٹ ‘میں رکھنے کا اعلان کیا ہے۔فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس جمعہ کو ختم ہو گیا ۔ اجلاس میں پاکستان کے وفد کی قیادت وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر نے کی۔ اجلاس کے بعد ایف اے ٹی ایف کے صدر زیانگ من لیو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی حکومت نے مثبت اقدامات کیے ہیں اس لیے پاکستان کا نام فی الحال گرے لسٹ میں ہی رہے گا۔ ایف اے ٹی ایف صدر کے مطابق پاکستان کو مزید اور تیز اقدامات کرنے ہوں گے۔ایف اے ٹی ایف نے پاکستانی اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ معاملات مزید بہتر کرنے اور بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے پاکستان کو فروری 2020 ء تک کا وقت دیا گیا ہے۔ زیانگ من لیو نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ کاوشوں میں سقم موجود ہے جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے جب کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کی استعداد کار بڑھانے میں اس کی مدد کر رہا ہے۔6روز سے جاری اجلاس کے دوران حکومت پاکستان کی ایمنسٹی اسکیم پر بھی ایف اے ٹی ایف کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے اجلاس کے اختتام پر ایک اعلامیہ بھی جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے پاکستان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ایف اے ٹی ایف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی مدد کو روکنے کے لیے پاکستان نے مزید کوششیں کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ایف اے ٹی ایف نے دہشت گردوں کی مالی مدد کی روک تھام کے لیے پاکستان کی محدود کامیابی پر گہری تشویش کا بھی اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اسے دیگر اہداف حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان نے ایکشن پلان کے 27 میں سے 5نکات پر کام کیا ہے جب کہ ایکشن پلان کے دیگر نکات پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے، اگر پاکستان نے فروری 2020ء تک اپنے ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد نہ کیا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔