لبنان میں حکومت مخالف مظاہرے کیوں ہو رہے ہیں؟

193

عراق کے بعد لبنان میں بھی حکومت مخالف ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔ مظاہرین نے ملک کی اہم شاہراؤں کو بند کرکے لبنانی پارلیمنٹ کی عمارت کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

مظاہرین نے عمارت کے سامنے کچرے کے کنٹینز اور ٹائر جلا رکھے ہیں اور حکومت مخالف صدائیں بلند کر رہے ہیں۔

لبنان کے ایک وزیر جب بیروت روڈ پہنچے تو غصے میں مبتلا مظاہرین نے انہیں دیکھتے ہی ان کی گاڑی پر ڈنڈوں کی بارش کردی جس پر وزیر کے محافظ نے ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔ وزیر نے گاڑی سے نکل کر محافظ کو روکا اور وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

ایک لبنانی ادیب کا کہنا ہے کہ اس وقت لبنان میں جو کچھ ہو رہا ہے ہم اس کو مسترد کرتے ہیں۔ حکومت نے سڑکوں پر نکلنے کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔

مظاہرے کیوں ہو رہے ہیں؟

لبنان کی حکومت 2020 کا بجٹ لانے کی تیاری کر رہی ہے جس میں تمباکو، گیسولین اور سماجی رابطے کی معروف ایپلیکیشن واٹس ایپ پر نئے ٹیکس لگانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ لبنان پر قرضوں کا حجم قریباً 86 ارب ڈالرز ہے جو کہ ملکی جی ڈی پی کا 150 فیصد ہے۔ جی ڈی پی کے حساب سے قرضے لینے والے ممالک میں لبنان تیسرے نمبر پر ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی قرض دہندگان یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ لبنان ان معاشی تبدیلیوں کو نافذ کرے جس کی ضمانت اس نے 2018 میں پیرس میں ہونی والے معاشی کانفرنس میں دی تھی تاکہ وہ مزید قرض لینے کا اہل ہو۔

اس معاشی کانفرنس میں قرض دہندگان نے لبنان کو 11 ارب ڈالرز دینے کا وعدہ کیا تھا اور ساتھ ہی لبنان کی حکومت سے اس بات کی ضانت لی تھی کہ قرض بدعنوانیوں کی نزر نہ ہو۔

لبنان سے جن معاشی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اس میں ٹیکس کی شرح میں اضافہ بھی ہے جسے عوام نے ماننے سے انکار کردیا ہے اور ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔