امن ایمبولینس سروس کے لیے 17 کروڑ 97 لاکھ روپے کی امداد منظور

96

کراچی(اسٹاف رپورٹر)حکومت سندھ نے امن ایمبولینس سروس کے لیے 17 کروڑ 97 لاکھ روپے کی امداد منظور کرلی ہے۔ منظوری کے بعد رقم جاری کردی گئی ہے۔ صوبائی حکومت نے اس ضمن میں باقاعدہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو امن فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروسز کی امداد کے لیے سمری بھیجی گئی تھی جس کی انہوں نے منظوری دے دی ہے۔حکومت سندھ کے ترجمان بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے گزشتہ روز واضح کیا تھا کہ امن ایمبولینس بند کیے جانے کا تاثر قطعی غلط ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ امن ایمبولینس سروس شہریوں کے لیے بہترین سروس ہے۔گزشتہ روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ امن ایمبولینس کے فنڈز کی سمری وزیراعلیٰ سندھ کو بھیج دی گئی ہے اور ان کی جانب سے منظور کیے جانے کے بعد فنڈز جاری کردیے جائیں گے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ تقریباً پونے تین کروڑ افراد کے شہر کراچی میں جہاں یومیہ چار ہزار کے قریب حادثات یا دیگر نوعیت کے واقعات ہوتے ہیں وہاں ایمبولینس سروسز انتہائی ناکافی ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اگر شہر قائد کی آبادی صرف دو کروڑ تسلیم کی جائے تو بھی تین لاکھ افراد کے لیے ایک ایمبولینس موجود ہے جب کہ عالمی معیار کے مطابق کم از کم ایک لاکھ افراد کے لیے ایک ایمبولینس کا ہر وقت ہونا لازمی ہے۔یہ امر بھی افسوسناک ہے کہ پوری دنیا میں ایمبولینس سروسز مریض کو ہنگامی حالت میں اسپتال منتقل کرتے ہوئے راستے میں اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کرتی ہیں اور اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ اسپتال پہنچنے تک مریض یا زخمی کی حالت میں قدرے بہتری آجائے جب کہ کراچی میں اسٹریچر اور ڈرائیور والی ایسی گاڑی کو ایمبولینس قرار دیا جاتا ہے جس میں آکسیجن سلنڈر تک نصب نہیں ہوتا ہے۔

پک اینڈ ڈراپ کی ذمہ داریاں ادا کرنے والی گاڑیاں گوکہ ایمبولینس کہلاتی ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت طبی امداد نہ مل سکنے کی وجہ سے 65 فیصد اموات دوران سفر ایمبولینسوں میں ہی ہو جاتی ہیں۔یہ بھی عام مشاہدہ ہے کہ دوران سفر ایمبولینس کا ڈرائیور چیخ چیخ کر راستہ مانگ رہا ہوتا ہے لیکن دیگر مسافر راستہ تک دینے پر آمادہ نہیں ہوتے ہیں۔

اسی طرح یہ بھی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ ایمبولیس سروس فراہم کرنے کا بیڑا شہر قائد میں سماجی اداروں نے اٹھایا ہوا ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتیں اس ضمن میں مکمل طور پر خاموشی ہیں۔

موجودہ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کے والد اور مرحوم وزیراعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاہ کی میت بھی کراچی سے ان کے آبائی گاؤں دادو ایک سماجی ادارے کی ایمبولینس میں گئی تھی۔سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں ہر دو منٹ کے بعد ہنگامی نوعیت کا ایک واقعہ پیش آتا ہے جس میں ایمبولینس درکار ہوتی ہے مگر ناکافی سہولتوں کی وجہ سے روزانہ تقریباً 850 افراد کی زندگیاں داؤ پرلگتی ہیں۔

دوسری جانب حکومت سندھ کی جانب سے امن ایمبولینس سروس کے لیے رقم جاری کرنے کے حوالے سے امن فاؤنڈیشن کے ہیڈآف دیپارٹمنٹ(ایچ او ڈی) عابد نوید نے جسارت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے ہمیں چیک موصول ہو گیا ہے لیکن رقم کو اکاونٹس میں منتقل میں ہونے میں تین دن لگ سکتے ہیں،جیسے ہی ہمیں رقم موصول ہو گی ہم میڈیا کو اپنی پریس ریلز کے زریعے آگاہ کر دینگے،انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی سروس کو بحال رکھنے کے لئے عارضی طور پر کسی سے رقم حاصل کی ہے، ہماری ایمبو لینس سروس بند ہونے کے باعث مریضوں کو اسپتال منتقلی میں بہت زیا دہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا،

اسی لئے ہم نے فوری طور پر اپنی سروس کو بحال کرنے کے لئے ایک نجی ادارے سے فنڈ حاصل کیا ہے بعد میں ہم ان کی دی ہوئی رقم واپس کر دینگے، انہوں نے کہا کہ آج جمعہ کی شب سے اپنی سروس عارضی طو ر پر بحال کر دینگے،