عمران خان کٹھ پتلی ہے‘ حکومت اسٹیبلشمنٹ کررہی ہے‘ فضل الرحمن

198
پشاور: جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن جمعیت طلبہ اسلام کے گولڈن جوبلی سیمینارسے خطاب کررہے ہیں
پشاور: جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن جمعیت طلبہ اسلام کے گولڈن جوبلی سیمینارسے خطاب کررہے ہیں

پشاور(آن لائن)جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ یہ جمہوری حکومت نہیں بلکہ کٹھ پتلی ہے اصل حکومت تو اسٹیبلشمنٹ کررہی ہے، وزیراعظم عمران خان کے استعفے سے قبل حکومت سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔پشاورمیں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم انتہا پسند نہیں،اگر ہم انتہا پسند ہوتے توطالبان کی مخالفت نہ کرتے، ہم نے اسلحہ اٹھانے اورخودکش حملوں کی مخالفت کی۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ27اکتوبر کوکشمیری عوام سے اظہاریکجہتی مناتے ہوئے قافلے نکلیں گے اور 31اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوں گے،حکمران ہمارے رضاکاروں کے ڈنڈوں سے خوفزدہ کیوں ہیں، حکمران بسیں روکیں گے تو ہم گھوڑوں، پیدل، سائیکلوں اورکشتیوں میں آئیں گے، چاہے2ماہ بھی انتظارکیوں نہ کرناپڑے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ قوم نے 10 ماہ میں جعلی الیکشن کے نتائج دیکھ لیے ہیں،400 ادارے بیچے جارہے ہیں،اب پوری قوم کی ایک ہی آواز ہے نئے الیکشن کرائے جائیں،انتخابات کے بعد جو بھی نتائج ہوں اور جو بھی جیتے نتائج ہم قبول کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ حکومتی لوگ غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں ،حکومت کے تمام حربے ناکام ہوچکے ہیں،آئین کی حکمرانی اور اداروں کے حدود میں رہ کر کام کرنے کے مطالبے پر دوسری رائے نہیں ہوسکتی۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ کسی ادارے نے عوام کا راستہ روکنے کی کوشش کی تو سمجھا جائے گا کہ ادارے ریاست کے لیے نہیں بلکہ کسی اور کے لیے استعمال ہورہے ہیں،ہم اداروں سے تصادم نہیں چاہتے لیکن اداروں کو بتانا چاہتا ہوں اگر مارشل لا کی کوشش کی تو آزادی مارچ کا رخ ان کی طرف موڑ دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اسرائیل کوتسلیم کرنے کی مہم چل رہی ہے،عالمی سطح پرگریٹ گیم جاری ہے اورامریکا نئی جغرافیائی تقسیم کر نا چاہتا ہے، بوڑھے ریٹائرڈ جرنیل کشمیرحاصل کرنے کا طریقہ بتانے کے بجائے اسرائیل تسلیم کرنے پردلائل دیتے ہیں،یہ ریٹائرڈ جرنیل اپنی حدود میں رہیں،ہمیں سیاست کرنا نہ سکھائیں۔مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ جعلی حکومت کے خلاف پوری اپوزیشن یکجاہے، وزیر اعظم اب سلیکٹڈ نہیں بلکہ ریجکٹیڈ ہیں،جب آئین پر ڈاکاڈالاگیاتوہم کیسے خاموش رہ سکتے ہیں،قران و سنت کے مطابق ہی پاکستان میں قوانین بنیں گے۔