’’ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے‘‘

122

نعیم اکرم قریشی
ممبر، شوریٰ ہمدرد ،راولپنڈی/ اسلام آباد

اللہ رب العزت کی اس وسیع و عریض کائنات میں ہر سو پھیلا یہ حسن و جمال اپنے خالق کی عظمت و برتری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ قدرتی حسن کو حضرت انسان نے خداداد صلاحیتوں کے ذریعے اور ملی جاذب نظر بنانے کے لیے اپنی اپنی بساط کے مطابق کوشش و کاوشیں جاری رکھیں۔ خالق و مالک کی انگنت مخلوقات میں ’’انسان‘‘ کو اشرف المخلوقات کہا گیا۔ ایک انسان جب اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے ہی جیسے دوسرے انسان کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی کاوش کرتا ہے تو بلاشبہ وہ ایسی دوسری کسی بھی کاوش سے زیادہ ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔ خدمت انسانی کی انفرادی یا اجتماعی ہر دو طرح کی کوششیں بارگاہ ایزدی میں بھی انتہائی مقبولیت کا باعث ہوتی ہیں اور یہ ہی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ؎
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر
اور یہ بات بالکل درست ہے کہ کسی بھی قوم میں چند افرادکی مخلصانہ انسانی خدمت رب کریم کی انگنت نعمتوں کا باعث بنتی ہیں۔
شہید پاکستان حکیم محمدسعید بھی ان بابغۂ روزگار ہستیوں میں سے ایک ہیں کہ جن کا وجود سراپا تسکین و راحت ہوتا ہے۔ میں ان کی خدمات پر زیادہ تفصیل سے روشنی نہیں ڈالوں گا جن کے بارے میں آپ کو پہلے سے علم ہے کہ آپ نے اس ملک میں ہربل میڈیسن کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ دواساز ادارے بنائے۔ جرائد و رسائل کا اجراء کیا۔ اہم موضوعات پر لیکچرز دیئے۔ بین الاقوامی کانفرنس میں طب یونانی کے حوالے سے پاکستان کی نمائندگی ، تعلیمی ادارے جو یونی ورسٹی کی سطح تک پہنچے، قائم کیے وغیرہ وغیرہ یعنی بہت سی جہتیں ہیں جو شہید پاکستان حکیم محمد سعید کی شخصیت اور خدمات کو ظاہر کرتی ہیں لیکن آج چونکہ مجھے اس موضوع پر لب کشائی کا اعزاز بخشا گیا ہے تو میں ان پہلوئوں پر روشنی ڈالوں گا جن سے میں ذاتی طور پر متاثر ہوں اور میں انہیں زیادہ ہمہ گیر سمجھتا ہوں۔
انسانی نظریات کو تبدیل کرنا ،انہیں صحیح ڈگر پر ڈالنا، عادات و اطوار کو بدلنااو رجحان سازی یہ وہ مشکل امور ہیں جن کو شہید پاکستان حکیم محمد سعیدنے اپنی پہلی ترجیح پر رکھا۔ اپنے قول و فعل میں مطابقت کی عظیم مثال قائم کی۔ اگر سادگی پر لیکچر دیا تو پہلے سادگی کو پورے اہتمام و انصرام کے ساتھ اپنا کر عملی مثال قائم کی۔ اگر دیانت داری پر گفتگو کی تو پہلے خود اس پر عمل کیا ۔ ملک کے ایک بڑے صوبے کے گورنر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے والا شخص مراعات اور سہولیات سے قطع تعلق کرتے ہوئے دوسروں کے لیے نمونہ عمل بنتا ہے۔ حق گوئی اور راست بازی کی اگر بات ہو تو وہ خود مجسم راست گو تھے۔ مصلحت کی آڑ میں کہیں بھی کسی بھی مقام پر ان کے قدم نہیںڈگمگائے۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی کے آخری ایام تک وہ خدمت انسانی کے عظیم مشن کے ساتھ وابستہ رہے۔
یہاں یہ بات مجھے یاد آگئی کہ ’’نونہال اسمبلی‘‘ کے اجلاس میں ہم نے فیصلہ کیا کہ 17 اکتوبر (جو حکیم سعید صاحب) کا یوم شہادت ہے، اسے ہم ’’قومی یوم خدمت‘‘ کے طور پر منائیں گے۔ تمام موجود تعلیمی اداروں کے سربراہان اور طلبہ و طالبات نے اس تجویز کی بھرپور حمایت کی اور عہد کیا کہ اس دن کوہم پورے اہتمام سے منایا کریں گے۔ شہید پاکستان نے خدمت انسانی کو ایک نیا رنگ دیا۔ ایک نئی جہت بخشی باوجود اس کے کہ انہیں دھمکیاں ملتی رہیں لیکن کسی بھی وجہ سے وہ نہ تو خوف زدہ ہوئے اور نہ ہی اپنا مقصد حیات کبھی پس پشت ڈالا ؎
شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پردم ہے اگر تو تو نہیں خطرہ افتاد
شہید پاکستان کی عملی، ادبی، سماجی خدمات میں سب سے نمایاں خدمت ’’شوریٰ ہمدرد‘‘ کا قیام ہے۔ وطن عزیز کی نسل نو کی فکر رہنمائی کے لیے ہمدرد نونہال اسمبلی کا قیام جو آج الحمدللہ ایک تناور درخت کی صورت میں موجود ہے۔ مجھے پورے ملک میں نوعیت کے اعتبار سے ایسے کسی فورم کا نشان نہیں ملتا جہاں بے لوث ہو کر قومی و ملی امور پر مل بیٹھ کر بحث کریں۔ اس بات سے قطع نظر کہ ہماری سفارشات پر عمل درآمد ہوتا ہے یا نہیں لیکن کم از کم ایسا تھینک ٹینک موجود تو ہے جہاں اہم قومی امورپر اصحاب فکر و دانش اکھٹے ہوتے ہیں، بحث کرتے ہیں، تجاویز اکھٹی کی جاتی ہیں اور یہ سب کچھ ایک تسلسل سے جاری ہے۔ ہر شخص کو اپنے نقطہ نظر کے اظہار کا موقع میسر آتا ہے۔ پھر اس کے چیدہ چیدہ نکات اخبارات و رسائل اور خبرنامہ ہمدرد میں چھپتے ہیں۔ گویا ہم اپناکام صدقِ دل اور دیانت داری سے کرتے چلے آرہے ہیں اور اس بات کا کریڈٹ شہید پاکستان حکیم محمد سعید کو جاتا ہے جنہوں نے اس کی بنیادجذبۂ حب الوطنی اور حب القومی کے تحت رکھی۔ بلاشبہ یہ ایک بڑا اور جرأت مندانہ فیصلہ تھا۔
اسی طرح وطن کے نونہالوں کی تعلیم و تربیت اور ماہانہ طور پر ہمدرد نونہال اسمبلی کا انعقاد ہو رہا ہے۔ چھوٹے بچے اور بچیاں پورا مہینا اپنے اساتذہ کی زیر نگرانی اس کی تیاری کرتے ہیں اور پھر ایک باقاعدہ فورم کی شکل میں اپنے خیالات و جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ تقاریر میں بھی اور ٹیبلوز کی شکل میں بھی اور یہ سارے مظاہر حب الوطنی کی عکاسی کرتے ہیں۔
مختصر اشارات:
1)اخلاقیات کے فروغ کے لیے ہمہ جہت عملی اقدامات۔
2)دوسرے ملکوں میں تہذیبی و ثقافتی نمائندگی۔
3)تھوڑی سے تھوڑی جگہ پر بھی پیغام دینے کی روایت
4)مختصر جملے میں بڑے بڑے سبق آموز پیغامات دینے کی روایت
تیری تو وہ مثال ہے جیسے کوئی شجر
خود دھوپ میں جلے اوروں کو چھائوں
5)عالم باعمل۔ خطیب طبیب
خطیب شہر بھی ہو طبیب شہر ہو
٭ہم خوش نصیب ہیں کہ حکیم صاحب کو دیکھنے کا موقع ملا۔
٭حکیم صاحب کے ساتھ ہمیں زندگی کے لمحات گزارنے کا موقع ملا۔
٭ہم نے حکیم صاحب کی باتیں سنیں اور حکیم صاحب نے ہماری باتیں سنیں۔
٭یہ ہمارا بڑا اعزاز ہے کہ حکیم صاحب نے اپنی زندگی میں ہمیں شوریٰ ہمدرد کا رکن بنایا۔
٭شام ہمدرد کے بعد شوریٰ ہمدرد حکیم صاحب کی زندگی کا ایک ایسا کام ہے جو ان کی ایماندارانہ جدوجہدکا نقطہ عروج تھا—- دنیا سے جانے کے بعد حکیم سعید کی شوریٰ ہمدرد کے اجلاس تسلسل سے ہوتے ہیں۔اس تسلسل کو سولہ سال تک برقرار رکھنا حکیم صاحب کی روحانی کرامت دکھائی دیتی ہے۔یہ حکیم صاحب کا بڑا ورثہ ہے کہ ان کے والد محترم بھی حافظ قرآن تھے۔ حکیم سعید بھی حافظ قرآن تھے۔جس جہاں میں وہ جاچکے ہیں ہم انہیں قرآن حکیم ہی کی تعلیم کا تحفہ بھیج سکتے ہیں۔ لہٰذا میری گزارش ہے کہادارۂ ہمدرد سے حکیم سعید میموریل حفظ قرآن کا ایک تسلسل سے تعارف کروایا جائے۔دوران حفظ اگر بچے 2/5 منٹ کا مواد اردو انگریزی ریکارڈ ڈ مواد سیکھنے سکھانے کا تسلسل اپنالیں توان شاء اللہ دینی اور دنیاوی تعلیم کا ملک گیر کام ممکن ہوگا۔