اچھی تعلیم کا خواب

95

یوسف عباسی

انسان کی زندگی کا دارومدار ہمیشہ سے معاشی استحکام پر رہا ہے اور معاشی استحکام کے لیے معاشرتی استحکام انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ سماجی زندگی میں نام پیدا کرنے کی خواہش انسانی ہمدردیوں کو فروغ دیتی ہے۔ یہ بات ضروری نہیں کہ سماجی زندگی کی ترقی کے لیے تشہیر کی جائے بلکہ ایسے کام اور اقدامات ضروری ہوتے ہیں جو دوسرے انسانوں کی کامیاب زندگی کے لیے مشعل راہ بن جائیں۔ ایسے افراد کی تعداد بھی کم نہیں ہے جو نیکی اپنی ذات سے تو کرتے ہی ہیں مگر اس کا ثمر دوسروں تک پہنچانے کے لیے دوسروں کی خوشی میں شامل ہوتے ہیں اور ان کی خوشی کو اپنی خوشی اور ان کے غم کو اپنا غم سمجھ کر نیکیاں بانٹتے ہیں۔ چند ایک شخصیات ایسی بھی ہیں جن کا شعار زندگی کے ہر لمحہ میں نیکی کرنا ہے ان کا زندہ رہنا بھی اپنے لیے نہیں رہا بلکہ وہ اللہ کی رضا اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ کرنا زندگی کا مقصد بنا لیتے ہیں۔ ایسی شخصیات میں حکیم محمدسعید شہید کا شمار کرنا ہمارے ملک کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں ہے جہاں چند ایک ہی لوگ ایسے رہ گئے ہیں جنہوں نے تمام عمر خدمت خلق کو اپنا شعار بنائے رکھا اور اپنی موت کے بعد بھی یہ سلسلہ ختم ہونے نہیں دیا بلکہ اپنے جانشینوں کو یہ ذمہ داری سونپی۔ حکیم محمد سعید مرحوم نے 1948 ء میں نہایت نامساعد حالات میں ہمدرد کی بنیاد رکھی اور ایک تحقیقی لیبارٹری کو بھی بنیاد فراہم کی اور 19 ۔ جون 1948 ء کو سندھ کے وزیر تعلیم پیرالہٰی بخش نے ہمدرد مطب کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ ہمدرد فارماکو کی جانب سے جدید طریقوں پر ادویہ کی تیاری اور خوبصورت پیکنگ نے مصنوعات ہمدرد کو مقبول عام بنایا۔ یہ وہ وقت تھا جب حکیم صاحب نے حکمت کو ذریعہ بناکر انسانی خدمت کی ٹھان لی تھی اور اپنے عزائم کو وقت کی نزاکت اور طلب کے مطابق ڈھالتے ہوئے خدمات میں اضافہ کرنا اپنا شعار بنا لیا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ تعلیم کے فروغ اور حصول کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اسی جذبہ کو آگے بڑھانے کے لیے جذبہ کے ساتھ حکیم محمد سعید کی تعلیم کے شعبہ میں خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں اور اب ان کے جانشین جن میں ان کی صاحبزادی سعدیہ راشد سرفہرست ہیں، اپنے مرحوم والد کے مشن کو دن بدن آگے بڑھانے میں کوشاں ہیں ۔ خاص طور پر حکیم صاحب کے مشن جن میں تعلیم کا فروغ لازم قرار دیا گیا ہے، کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہیں۔ ویسے تو دنیابھر میں ہمدرد کا نام اپنی خالص مصنوعات کی بناء پر کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے تاہم دیگر شعبوں، جن میں خاص طور پر معیاری اور مفت تعلیم کی فراہمی ایک لازمی جز ہے، میں بھی سعدیہ راشد کی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے دانش اسکول کے قیام کا آئیڈیا ہمدرد کی جانب سے فروغ تعلیم کی غرض سے قائم کیے جانے والے ولیج اسکولز سے ہی لیا تو غلط نہ ہوگا۔ مدینتہ الحکمہ میں قائم ہمدرد ولیج اسکول شہید حکیم محمد سعید کے اس خواب کی تعبیر ہے جو انہوں نے مدینتہ الحکمہ کے قرب و جوار میں آباد گوٹھوں کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے دیکھا تھا۔ انہوں نے پاکستان کے دیہی علاقوں کے بچوں کی تعلیم کے لیے مسجد اسکول کا تصور بھی دیا تھا اور خصوصاً ہمدرد ولیج اسکول کے فیز نمبر ایک کی وہ نئی عمارت کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد پہلی عمارت میں 2003 ء سے پڑھائی کا آغاز ہوا جبکہ دوسری عمارت میں 2004 ء کے تعلیمی سال سے پڑھائی کا آغاز ہوا۔ ولیج اسکول کے فیز دو کی پہلی عمارت میں 2004 ء میں پڑھائی کا سلسلہ شروع ہوا جہاں گوٹھوں کے بچوں کو نہ صرف مفت تعلیم دی جاتی ہے بلکہ انہیں کتب، یونیفارم، جوتے بھی مفت فراہم کیے جاتے ہیں اور ہاسٹل کی سہولت بھی مفت ہے اور خاص بات یہ ہے کہ یہاں بچوں کی خواہش کے مطابق ان کو فنی تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ کیا جا رہاہے یعنی میٹرک کرنے کے بعد نہ صرف ہر بچہ مناسب تعلیم یافتہ ہوگا بلکہ فنی تعلیم میں ماہر ہونے کے باعث اپنے روزگار پر بھی فوری لگ سکے گا جبکہ ایک سو ایکڑ اراضی پر قئم یہ ہمدرد اسکول جوکہ اعلیٰ اور معیاری تعلیم کے فروغ کا ایک اور پروجیکٹ ادارہ ہے، میں پانچ ہزار طلبہ کی تعلیم وتربیت کی گنجائش ہے۔ اسکول کا پہلا تعلیمی سال 1990 ء میں شروع ہوا۔ اسکول کے چار بلاک ہیں اور ہر بلاک سات کلاس رومز پر مشتمل ہیں۔ اسکول جدید سہولتوں مثلاً اعلیٰ فرنیچر، ڈرائنگ سیکشن، کمپیوٹر سیکشن، لائبریری اور اینیمل میوزیم سے مزین ہے۔ ہر کلاس کے بچوں کے لیے آڈیوویژول سہولتوں کا انتظام ہے۔ بچوں کو مخصوص طور پر اسکول لانے اور لے جانے کے لیے بسوں کا انتظام ہے۔ ہمدرد اسکول کا یونیسکو کے اسکول پراجیکٹ سے الحاق ہے۔ اسکول کے لیے پانچ ایکڑ پر مشتمل بلاول اسٹیڈیم تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ سفر یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ اس کی مزید شاخیں ہائر ایجوکیشن کے فروغ کی صورت میں بڑھتی جا رہی ہیں۔ یعنی ہمدرد کالج آف سائنس، ہمدرد کالج آف کامرس، سینٹر فار ہارٹی کلچر، انوائرنمنٹل اسٹڈیز سینٹر، کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری، المجید ہمدرد کالج آف ایسٹرن میڈیسن، انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ سائنسز،انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن، انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، اسکول آف لا، ڈاکٹر حافظ محمد الیاس انسٹی ٹیوٹ آف فارماکولوجی، میڈیسنل ہربل گارڈن، ڈرائی بربیر، جوکہ ہمدرد یونی ورسٹی کے 1991 ء میں قیام سے تعلیم کے فروغ میں خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ حکیم محمد سعید شہید کا خواب ’’تعلیم یافتہ پاکستان‘‘ تعبیر کے مرحلے تیزی سے طے کر رہا ہے۔ دعا یہ ہے کہ ان اداروں کو کسی کی نظر نہ لگے بلکہ ان میں اضافہ ہو اور جلد پاکستان کے بچے بچے کا شمار تعلیم یافتگان میں ہو جائے اور ملک و قوم کے لیے باعث ترقی بن سکے۔