کراچی میں سفر کے لئے نکلنے والی خواتین کی بڑی تعداد پبلک ٹرانسپورٹ میں اذیت ناک سفر کرنے پر مجبور،

127

کراچی(رپورٹ:منیرعقیل انصاری)کراچی میں سفر کے لئے نکلنے والی خواتین کی بڑی تعداد پبلک ٹرانسپورٹ میں اذیت ناک سفر کرنے پر مجبور ہیں،خواتین کے لئے محفوظ سفری سہولیات کے لئے محمکہ ٹرا نسپو رٹ کی جانب سے تاحال کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں، خواتین شہریوں کی ایک بڑی تعدادپبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں خواتین کی بڑی تعداد جس میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیز کی طالبات، کام پر جانے والی خواتین اور دیگر خواتین شامل ہیں روزانہ تکلیف دہ حالت میں بسوں، کوچوں، ویگنوں اور چنگ چیز میں سفرکرنا ہوتا ہے۔ بسوں، کوچوں کی ناگفتہ بہ حالت سے خواتین کو روزانہ گزرنا پڑتا ہے۔

بس ڈرائیوروں اور کنڈیکٹرز کے غیر اخلاقی رویوں سے خواتین مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں بیٹھے مرد مسافر خواتین کا خیال نہیں کرتے، سگریٹ کا دھواں اڑاتے اور پان و گٹکے چباتے ہوئے خواتین کی مخصوص نشستوں پر بڑے فخر کے ساتھ براجمان رہتے ہیں۔

دوسری جانب کنڈیکٹروں کا بار بار خواتین کو ایک دوسرے پر دھکیلتے ہوئے ان کے درمیان سے گزر نا بھی خواتین کے لئے نا قابل برداشت ہوتاہیں، جبکہ بعض اوقات خواتین بسوں میں کھڑے ہو کر چھوٹے بچوں کے ہمراہ سفر کرنے پر مجبور ہیں،

رہی سہی کسر ٹرانسپورٹ مالکان کی جانب سے آئے روز کرایوں میں من مانا اضافہ ہے جس کی وجہ سے کنڈیکٹر حضرات بدکلامی کر تے ہیں،گاڑی سے اتر جانے کے لئے کہتے ہیں اوربعض اوقات اتار بھی دیتے ہیں۔اسی طرح آن لائن نجی ٹیکسی میں بچوں کے ساتھ سفر کرنے والی خواتین کو ہراساں کئے جانے کے واقعات میں بھی دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

اس حوالے سے خواتین مسافر نے وزیر اعلی سند ھ سید مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ سے مطالبہ کیا کہ منی بسوں و کوچزمیں خواتین کمپارٹمنٹ میں مردوں کے داخلے پر پابندی عائد کی جائے۔

بسوں، منی بسوں اور کوچز میں سگریٹ وگٹکے کے استعمال کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔ اسکول کالج اور یونیورسٹی کے اوقات میں رش کے موقعے پر تمام چلنے والی بسوں میں بھی ویمن ٹرانسپورٹ علیحدہ سے چلائی جائے کیونکہ سرکاری جامعات کی بسیں ہوں، عام بسیں یا کوچز دوران سفر ان پر سوار پائیدان تک کھڑی خواتین اور طالبات کسی بھی طرح محفوظ نہیں ہوتی ہیں۔

خواتین کے لئے علیحدہ ٹرانسپورٹ چلائی جائے اور محفوظ سفری سہولیات کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔