آگے بڑھیںگے،واپسی کا راستہ نہیں،فضل الرحمن

170
پشاور: جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ورکرز کنونشن سے خطاب کررہے ہیں
پشاور: جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ورکرز کنونشن سے خطاب کررہے ہیں

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے وفاقی حکومت کو جعلی قرار دیتے ہوئے آزادی مارچ کے حوالے سے کہا ہے کہ ہم پرامن لوگ ہیں اور آگے بڑھیں گے،واپس مڑنے کا کوئی آپشن نہیں ہے،کچھ لوگ دھمکیاں دے رہے ہیں ہمیں چھیڑا گیا تو وہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔پشاور میں اپنی جماعت کی سالار فورس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہمارے کارکنوں نے اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کا راستہ اپنایا، ہمارے کارکنوں اور مدارس کے طلبہ نے ہمیشہ آئین کی پاسداری کی۔اس موقع پر رضاکاروں نے مولانا فضل الرحمن کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا اور اپنی جانوں پر کھیل کر قیادت کے تحفظ کا حلف بھی اٹھایا۔حکومت کے خلاف مارچ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ہم آگے بڑھیں گے، اب پیچھے مڑنے کا کوئی آپشن نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ووٹ کو چوری کرکے ناجائز حکومت کو ہم پر مسلط کیا گیا اور جب ہمارا جعلی وزیراعظم بیرون ملک جاتا ہے تو کوئی ان کا استقبال کرنے نہیں آتا۔سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے کہا کہ اس نااہل حکمران کی وجہ سے ملک پیچھے جارہا ہے، مغربی دنیا کا ایجنڈا نافذ کرنے کے لیے اس کٹھ پتلی کو مسلط کیا گیا۔ملکی معیشت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معیشت ڈوب رہی ہے، کارخانے بند ہورہے ہیں اور تاجر رو رہا ہے جبکہ وزیراعظم انڈے، مرغی اور کٹوں سے معیشت کو سنبھالتے سنبھالتے اب لنگر خانوں تک پہنچ چکے ہیں۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں آج ایک پیج پر ہیں اور حمایت کے اعلان پر میں تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر کو مارچ کا آغاز کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے ساتھ ہوگا۔حکمران جماعت کے دھرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم پْرامن لوگ ہیں اس لیے پارلیمنٹ ہائوس اور پی ٹی وی پر حملہ نہیں کریں گے ۔حکومت کو خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت نہیں پوری قوم اسلام آباد آرہی ہے، کیا ریاستی ادارے قوم کے ساتھ تصادم کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ امن کا پیغام دے کر امن کی ضمانت چاہ رہے ہیں لیکن ہمیں روکنے کی بات کی جارہی ہے۔سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور قدم، قدم پر مشاورت کر رہے ہیں۔