چودھری شوگر ملزم کیس:نوازشریف 14 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے

31

لاہور(نمائندہ جسارت) قومی احتساب بیورو (نیب) نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کو جیل سے چودھری شوگر ملز کیس میں گرفتار کرلیا۔نیب نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو چودھری شوگر مل کیس میں کوٹ لکھپت جیل سے گرفتار کر کے احتساب عدالت میں پیش کیا۔ نیب پراسکیوٹر حافظ اسد اعوان نے کیس میں مزید تفتیش کے لیے نواز شریف کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پر احتساب عدالت نے نواز شریف کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرتے ہوئے 25 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔سابق وزیراعظم نواز شریف نے عدالت میں بیان دیا کہ نیب نے مجھ سے جیل میں بھی تفتیش کی، یہ آئے اور مجھ سے مختلف سوالات پوچھے جو مجھے معلوم تھا بتا دیا جو معلوم نہیں تھا کہ دیا مجھے علم نہیں لیکن مجھے جیل میں وکلاء سے بھی نہیں ملنے دیتے۔میرے والد کاروباری آدمی تھے، سیاست میں آنے سے قبل ہی 1937 سے 1971 کاروبار کے ذریعے پیسہ آیا۔اس موقع پر سابق وزیراعظم نے سوال کیا کہ بتائیں کرپشن کہاں ہوئی ہے، میں اس ملک کا تین مرتبہ وزیر اعظم رہا، مجھے گوانتاناموبے لے جائیں یا جہاں مرضی ہو لے جائیں، اگر ایک پیسے کی کرپشن دکھا دیں تو میں سیاست سے دستبردار ہو جائوں گا۔نواز شریف کی پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے احتساب عدالت کی جانب جانے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں روک دیا جس پر کارکنان اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ نیب نے چودھری شوگر مل کیس میں جسمانی ریمانڈ کے بعد نوازشریف کو نیب کے ڈے کیئرسینٹر میں منتقل کردیا ہے۔نیب کے ڈے کیئر سینٹر کو سب جیل قرار دے دیا گیا۔نوازشریف سے صرف تفتیشی افسران کو ملاقات کی اجازت ہوگی۔نوازشریف کی سکیورٹی پرنیب کے سکیورٹی اہلکار تعینات ہوں گے۔قبل ازیں نیب نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے یوسف عباس اور مریم نواز کی شراکت داری سے 410 ملین روپے کی منی لانڈرنگ کی۔ چودھری شوگرمل کیس کے حوالے سے نیب کی رپورٹ منظر عام پر آگئی ہے۔ نیب نے انکشاف کیا کہ نوازشریف نے بھتیجے یوسف عباس اور صاحبزادی مریم نواز کی شراکت داری سے 410 ملین روپے کی منی لانڈرنگ کی۔ ملزمان نے جعلی 11 ملین کے شیئرز غیر ملکی شخص نصیر عبداللہ کو منتقل کرنے کا دعویٰ کیا، جب کہ ٹرانسفر کئے جانے والے شیئرز نوازشریف کو 2014 میں واپس کر دیے گئے تھے۔نیب رپورٹ میں بتایا گیا کہ چودھری شوگرملز اور شمیم شوگرملز میں 1992 سے لے کر 2016 تک 2 ہزار ملین کی انوسٹمنٹ کی گئی۔ نواز شریف نے 1992 میں شوگر ملز کے لئے ایک آف شور کمپنی سے 1 کروڑ 55 لاکھ 20 ہزار ڈالر کا قرض ظاہر کیا لیکن جس کمپنی سے قرض لیا گیا اس کے اصل مالک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔
نواز شریف ریمانڈ