کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دینگے‘ وزیراعلیٰ پختونخوا

31

پشاور (اے پی پی)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ و دھرنے اور صحت کے شعبے میں کی گئی اصلاحات کے خلاف طبی عملے کے احتجاج کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کے کوئی تحفظات ہیں تو وہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات کرسکتے ہیں تاہم کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے جمعے کو ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں صنعت و تجارت کے فروغ کے لیے منعقد کی گئی ایجادات کی نمائش اور سیمینارکی افتتاحی تقریب اور ایبٹ آباد پر یس کلب کی تقریب حلف برداری میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ فضل الرحمن اگر حکومت سے تنگ ہیں تو وہ احتجاج کی سیاست کرنے کے بجائے صوبائی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر بات کرسکتے ہیں اور ہم ان کی شکایات وفاقی حکومت تک بھی پہنچائیں گے لیکن عوام کے مفاد میں حکومت کے کاموں میں رکاوٹیں پیدا کرنے اور قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ صوبے میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کے احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے واضح کیا کہ سرکاری اسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے وضع کیے گئے حالیہ قانون میں ڈاکٹروںکی ملازمت کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا اور وہ بدستور سرکاری ملازم ہی رہیں گے ‘ اسپتالوں کو خودمختار بنا کر ان کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کے لیے صوبائی حکومت کا عمل دخل ختم کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے‘ اصلاحات کا مقصد اسپتالوں کی نجکاری نہیں بلکہ خدمات کی ہمہ وقت فراہمی ہے۔
وزیراعلیٰ پختونخوا