دہشت گردی کے مقدمے میں صلح کی بنیاد پر مجرم رہا نہیں ہوسکتا، عدالت عظمیٰ

60

اسلام آباد (صباح نیوز) عدالت عظمیٰ نے دہشت گردی کے مقدمے میں صلح کی بنیاد پر مجرم کی رہائی سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 7 رکنی لارجر بینچ نے فیصلہ سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے مقدمے میں سمجھوتے کی بنیاد پر مجرم کی رہائی نہیں ہو سکتی۔ عدالت عظمیٰ کی طرف سے جاری کیے گئے چیف جسٹس پاکستان کے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیاہے کہ دہشت گردی کے مقدمے میں محض فریقین کے درمیان صلح سے مجرم کی رہائی ممکن نہیں، کسی مناسب موقع، مخصوص حالات میں صلح یا سمجھوتا ہونے پر سزا کم کرنے پر غور ہوسکتا ہے لیکن دہشت گردی کے مقدمے میں فریقین کے درمیان صلح پر سزا میں کمی خود بخود نہیں ہوگی۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم کی سزا میں کمی پر غور کرنا عدالت کی صوابدید ہو گی، دہشت گردی کا جرم دیگر جرائم سے مختلف ہے، صلح کے بعد سزا میں کمی پر ٹرائل کورٹ فیصلہ سنانے کے دوران غور کرے گی۔عدالتی فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ تمام عدالتی فورمز سے سزا برقرار رکھے جانے پر سزا میں کمی کے لیے رحم کی اپیل پر صدر پاکستان غور کریں گے، صدر سے رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد صلح ہونے پر جیل سپریٹنڈنٹ رحم کی نئی اپیل صدر پاکستان کو بھجوائے گا۔