مشیر تجارت ایف پی سی سی آئی سے جعلی ٹریڈ ایسوسی ایشنز چیمبرز کا خاتمہ کریں،آغا شہاب

46

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) کے صدر آغا شہاب احمد خان نے وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل عبدالرزاق داؤد کو کے سی سی آئی کے دورے کی دعوت دی ہے تاکہ انہیں متنازعہ ٹریڈ آرگنائزیشن آرڈیننس 2013کے بارے میں اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع مل سکے اور ٹریڈ آرگنائزیشن آرڈیننس 2007کو بحال کرنے کے لیے حکومت کو راضی کیا جاسکے ساتھ ہی مشیر وزیراعظم کی حکمت عملی کے بارے میںآگاہی حاصل ہوکہ وہ کس طرح ایف پی سی سی آئی سے جعلی ٹریڈ باڈیز کے مکمل خاتمے کو ممکن بنایا جاسکتا ہے اگر ایسا ہو جائے تو یہ پورے ملک کے بہتر مفاد میں ہوگا۔کے سی سی آئی کے صدر نے مشیر تجارت رزاق داؤد کو 11اکتوبر2019کو ارسال کیے گئے ایک خط میں ان کی توجہ متنازعہ ٹریڈ آرگنائزیشن 2013کی طرف مبذول کروائی جس سے جعلی اور بوگس ٹریڈ ایسوسی ایشنز کے ذریعے ایف پی سی سی آئی میں قبضہ گروپ کو داخل ہونے کا موقع ملا اور اس طرح تاجروصنعتکار برادری کے حقیقی نمائندوں کو ایف پی سی سی آئی کے معاملات میں کچھ کہنے کے بنیادی حق سے محروم کردیا گیا۔ہمارا یہ پختہ یقین ہے کہ ٹی اواو2013کو ختم کرکے ٹی اواو2007بحال کرنے اور اصل روح کے ساتھ اس پر عمل درآمد سے ایف پی سی سی آئی قبضہ مافیا کے چنگل سے آزاد ہوجائے گا۔اس سلسلے میں انہوںنے وزیراعظم کے مشیر کے ساتھ بزنس مین گروپ کے چیئرمین و سابق صدر کراچی چیمبر سراج قاسم تیلی اور سابق صدر کے سی سی آئی جنید اسماعیل ماکڈا کی سربراہی میں کے سی سی آئی کے وفد کی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس اجلاس میں کے سی سی آئی کے وفد نے ٹی اواو2007 اور ٹی اواو2013کا تفصیلی موازنہ پیش کیا تاکہ مشیر تجارت ٹی اواو2013کی سنگین خرابیوں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اس کے مطابق اقدامات عمل میں لاسکیں۔آغا شہاب احمد نے کہاکہ 2007میں مشرف کے دور میں جب ہمایوں اختر خان وزیرتجارت تھے کے سی سی آئی نے ٹریڈ آرگنائزیشن1961 کو منسوخ کروانے کے لیے سخت جدوجہد کی اور پھر اس وقت ٹی اواو2007مرتب کیا گیا جس کی تقریباً تمام ٹریڈ ایسوسی ایشنز ،چیمبرز حتیٰ کہ ایف پی سی سی آئی نے بھی توثیق کی تھی اور اس کے نتیجے میں جعلی اور بوگس ٹریڈ باڈیز کا تقریباً خاتمہ ہوگیا تھا جبکہ ٹی او او پر عمل درآمد کے بعد 90ٹریڈ ایسوسی ایشنز اور 35چیمبر قانونی قرار پائے تاہم 2007سے2013کے درمیان ٹی اواو2007کو سبوتاژ کرتے ہوئے اسے ختم کردیا گیا اور اسے ٹی اواو2013سے تبدیل کردیا گیا جس کی وجہ سے ایک بار پھر جعلی و بوگس ٹریڈ باڈیز کو محض 3سے4لاکھ روپے کی ادائیگی پر ایف پی سی سی آئی میں رجسٹرڈ ہونے کا موقع ملا۔اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے کے سی سی آئی نے اُس وقت کے وزیرتجارت مخدوم امین فہیم اور قائمہ کمیٹی برائے تجارت خرم دستگیر خان سے رابطہ کیا جو بعد میں مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں وزیرتجارت بھی بنے۔اس کے علاوہ اس مسئلے کو مشیر تجارت رزاق داؤد کے کراچی چیمبرکے گزشتہ دورے کے موقع پر ان کے علم میں بھی لایا گیا۔اگرچہ اس حوالے سے وقتاً فوقتاً یقین دہانیاں کروائی گئیں مگر تاحال اس سے نمٹنے کے لیے ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔کے سی سی آئی کے صدر نے وطن عزیز باالخصوص تاجروصنعتکار برادری کی خدمت کے حوالے سے رزاق داؤد کے جذبے اور لگن کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ درحقیقت مشیر تجارت نے ملکی برآمدات اور دوستانہ ممالک کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں۔مشیر تجارت کی محتاط نگرانی میںوزارت تجارت و ٹیکسٹائل نے کامیابی کے ساتھ ای کامرس پالیسی متعارف کروائی اور وہ 5سالہ اسٹریٹجک تجارتی پالیسی کے فریم ورک پر بھی کام کر رہے ہیں جبکہ آزاد تجارتی معاہدوں پر نظرثانی اور ترجیحی تجارتی معاہدوں وغیرہ پر بھی کام جاری ہے ۔