ناروے نے ترکی کو ہتھیاروں کی برآمد روک دی

85
شام: ترکی کے ٹینک کرد جنگجوؤں پر گولہ باری کررہے ہیں‘ نشانہ بننے والے مقام سے دھواں اور شعلے بلند ہورہے ہیں
شام: ترکی کے ٹینک کرد جنگجوؤں پر گولہ باری کررہے ہیں‘ نشانہ بننے والے مقام سے دھواں اور شعلے بلند ہورہے ہیں

اوسلو/ واشنگٹن/ انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ناروے نے ترکی کے لیے ہتھیاروں کی کسی بھی نئی کھیپ کی برآمد روکنے کا اعلان کیا ہے۔ ناروے نے یہ اعلان شام کے شمال مشرق میں ترکی کے فوجی آپریشن کے تناظر میں کیا۔ ناروے کی وزیر خارجہ این ایرک سین سوریڈے نے اے ایف پی کو بھیجی گئی ایک ای میل میں کہا کہ موجودہ پیچیدہ اور تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر وزارت خارجہ حفظ ماتقدم کے طور پر ترکی کو دفاعی سازوسامان یا کثیرالمقاصد استعمال ہونے والے مواد کی برآمدات کے کسی نئے مطالبے سے نہیں نمٹے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی وزارت ترکی کو اسلحہ برآمد کرنے کے لیے پہلے سے جاری کردہ اجازت ناموں پر بھی نظرثانی کرے گی۔ فن لینڈ نے بھی ترکی یا شام میں جاری لڑائی میں شریک کسی اور ملک کو اپنا تمام نیا اسلحہ برآمد نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دوسری جانب امریکی ایوان نمایندگان کے ریپبلکن ارکان نے شام میں کرد ملیشیاؤں کے خلاف کارروائی کے جواب میں ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے ایک قرار داد لانے کا عندیہ دیا ہے۔ ریپبلکن رکن ریپ لز چینی نے ایک بیان میں کہا کہ صدر رجب طیب اردوان اور ان کی حکومت کو شمالی شام میں ہمارے کرد اتحادیوں پر بے رحمانہ حملے کی وجہ سے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی اور کرد ملیشیاؤں کے درمیان تنازع کے حل میں ثالثی کرانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکا ایسا کر سکتا ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن 5 یورپی ممالک نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر شام میں کرد ملیشیاؤں کے خلاف جاری کارروائی روک دے۔ اس حوالے سے سلامتی کونسل کے 2 مستقل ارکان فرانس اور برطانیہ اور 3 غیر مستقل رکن ممالک جرمنی، بلجیم اور پولینڈ نے جمعرات کو ایک ہنگامی اجلاس کے بعد مشترکہ بیان جاری کیا۔