میرپور خاص، اساتذہ کے جبری تبادلوں کیخلاف احتجاج

36

 

میرپورخاص (نمائندہ جسارت) گسٹا ضلع میرپور خاص کی ایگزیکٹو باڈی کے فیصلے کے مطابق حکومت سندھ کی جانب سے تبادلوں پر پابندی کے باوجود اساتذہ کے جبری تبادلوں کیخلاف ضلع بھر کے مختلف اسکولوں میں تدریسی عمل کا بائیکاٹ کیا گیا۔ یہ بات ضلعی صدر گل حسن لاشاری، اعجاز علی خاصخیلی، جمشید علی قائم خانی، غلام فاروق بروہی، در محمد، محمد طارق آرائیں، جاوید اقبال، سریش کمار اور دیگر عہدیداروں نے میرپورخاص پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ای او میرپورخاص نے اپنے آفس میں رشوت کا بازار گرم کر رکھا ہے، ہر کام کے ریٹ فکس ہیں، رشوت نہ دینے والے اساتذہ کو دفتر کے چکر لگوائے جاتے ہیں، حال ہی میں پسند اور ناپسند کی بنیاد پر اساتذہ کے دور دراز کے علاقوں میں تبادلے کیے گئے ہیں اور تبادلے منسوخ کرانے کے لیے بھاری رشوت لی جارہی ہے جبکہ حکومت سندھ کی جانب سے اساتذہ کے تبادلوں پر پابندی ہے، جن اسکولوں سے اساتذہ کا تبادلہ کیا گیا ہے ان اسکولوں میں پہلے ہی سے اساتذہ کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری تعلیم کے حکم کے مطابق جے ایس ٹی اساتذہ کی سنیارٹی لسٹ جلد مکمل کر کے ایچ ایس ٹی کی حیثیت سے جلد پروموشن کیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی ملک پاکستان میں سیکرٹری تعلیم نے نادر شاہی حکم جاری کرتے ہوئے حج عمرہ اور زیارتوں کی چھٹیوں پر پابندی عائد کردی ہے جو کہ اساتذہ کے ساتھ زیادتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پابندی فوری ختم کر کے عمرہ و زیارتوں پر جانے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر مسا ئل حل نہ ہوئے اور SAT کے امتحانات کے پیسے اساتذہ کو نہیں دیے جاتے تو ہر قسم کے امتحانات کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ اور ہفتے کو ضلع بھر کے تمام اسکولوں میں تدریسی عمل کا بائیکاٹ کیا جائے گا اور 15 اکتوبر سے 18 اکتوبر تک بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے جائیں گے جبکہ 22 اکتوبر کو ضلع بھر کے اساتذہ میرپورخاص میں ایک بڑی ریلی نکالیں گے جبکہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج کا فیصلہ کیا گیا ہے۔