مقبوضہ کشمیر :کرفیو کا 67 واں روز ،کشمیر اور فورسز میں جھڑپیں جاری ہیں،بھارتی میڈیا

29

سری نگر/ چناری (خبر ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میںمسلسل67 ویں روز بھی فوجی محاصرہ اور مواصلاتی بلیک آوٹ جاری رہنے کے باعث وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں کے لوگوںکو درپیش مشکلات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی جبکہ بھارتی میڈیا نے مودی سرکار کی کشمیر میں امن کے دعوئوں کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 2ماہ کے دوران وادی میں مظاہریں اور فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور 306 واقعات پیش آچکے میں اور100سے زاید اہلکار زخمی ہیں ۔کشمیر میڈیاسروس کے مطا بق مقبوضہ علاقے کے اطراف و اکنا ف میںبھارتی فوج بڑی تعدادمیں تعیناتی کے باعث کشمیری عوام کی زندگیاں جہنم بن چکی ہیں۔انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز مکمل طور پر معطل ہونے کی وجہ سے محصور کشمیری عوام کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ ادھر سیاحت کی صنعت سے وابستہ لوگوںکا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز کی معطلی کے باوجود سفری پابندیاں ختم کرنے کا نام نہاد انتظامیہ کا فیصلہ سیاحوںکو راغب کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ اس اعلان کے ذریعے ایک طرف تو عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ دوسری طرف اس اقدام کا مقصد پابندیاں اٹھنے کے بعد خونریزی کیلئے آر ایس ایس کے غنڈوںکو سیاحوںکے لبادے میںمقبوضہ علاقے میں داخل کرانا ہے۔بھارتی انگریزی ٹی وی چینل ’’سی این این۔ نیوز 18‘‘نے اپنی حکومت کے اس دعوے کہ 5اگست کو خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے کشمیر بالکل پرُ امن ہے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 2 ماہ کے دوران وہاں پتھرائو کے 306واقعات پیش آئے ہیں۔ ٹی وی نے اپنی ایک رپوٹ میں بھارتی فورسز کی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 5اگست کے بعد سے پتھرائو کے واقعات میںبھارتی پیراملٹری کے 89اہلکاروں سمیت 100 کے لگ بھگ اہلکار زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں بھارتی حکومت کے اس دعوے کو بھی غلط قرا ر دیا گیا کہ 5اگست کے بعد کشمیر میں کوئی گولی نہیں چلی اور نہ ہی کسی کی جان گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ4ستمبر کو پیلٹس لگنے سے جاںبحق ہونے والے گیارھویں جماعت کے طالب علم اسرار احمد خان کا واقعہ حکومت کے ان دعوئوں کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔ برطانیہ کے شہر گلاسکو میں تحریک کشمیر سکاٹ لینڈ اور سکاٹش ہیومن رائٹس فورم نے 5اگست سے محاصرے کا سامنا کرنے والے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے آج ’ کشمیر ڈیجیٹل کمپین‘‘ کے نام سے ایک مہم شروع کر دی۔ دوسری جانب جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کا بھارتی مظالم اور کشمیر کی آزادی کے حق میں پانچویں روز بھی کنٹرول لائن کے قریب بھارتی چوکیوں کے سامنے احتجاجی دھرنا جاری رہا ،باغ سے 360فٹ لمبے لبریشن فرنٹ کے پرچم کے ساتھ لوگوں کی بڑی تعداد دھرنا میں پہنچ گئی جمعرات کے روز جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے کی جانے والی پریس کانفرنس ناگزیر وجوہات کی بناء پر ملتوی کردی ۔سابق وزیراعظم آزاد کشمیر وپاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماچودھری عبدالمجید دیگر ساتھیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے دھرنے میں پہنچ گئے ،چودھری عبدالمجید اپنے خطاب کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب جاری ظلم و ستم پر پھوٹ پھوٹ کر روتے رہے دھرنا میں جذباتی مناظر ہر آنکھ آشکبارہوگئی ۔ چودھری عبدالمجید نے کہا ہے کہ ہم تقسیم کشمیر نہیں چاہتے کشمیر کی تقسیم کسی صورت منظور نہیں ہیںمسلح افواج پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ سوائے جنگ کے کوئی حل نہیں ہے پاک فوج ہمارا ساتھ دے ہم سب سے پہلے آزاد خطہ سے جائیں گے لبریشن فرنٹ کے کارکن حوصلہ نہ ہاریں ہم آپ کے ساتھ ہیںاور ہم کشمیر میں رائے شماری تک چین نہیں رہیں گے کوئی بھی کشمیری پاکستان کے خلاف نہیں ہے ۔