۔27 اکتوبر کو فضل الرحمن علاج کے لیے ملک چھوڑ دینگے،مفتی قوی

55

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے مذہبی ونگ کے رہنما اور ملتان سے تعلق رکھنے والے عالم دین مفتی عبدالقوی کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن 25 تاریخ تک چند جمع کریں گے،26 کو بیمار اور 27 کو ملک سے باہر ہوں گے۔تفصیلات کے مطابق صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہورمیں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالقوی نے کہا کہ زردعمامہ پہن کر مولانا فضل الرحمن تحفظ ناموس رسالت کے نام پر بھیک مانگ رہے ہیں۔ہم امت مسلمہ کی نمائندگی کر رہے ہیں وہ چندہ مانگ کر شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں۔چندہ ، دھندہ اور اس کا انجام مندہ ہو گا۔مفتی قوی نے کہا کہ غریب عوام سے ناموس رسالت کے نام پر چندہ مانگ کر اپنے زرد مال کی طرح چہرہ بھی زرد کر رہے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ 27 اکتوبر کے دن مولانا فضل الرحمن بیرون ملک علاج کروانے چلے جائیں گے کیونکہ ناموس رسالت کے نام پر چندہ مانگنے سے بخار آتا ہے اور دل کا اٹیک بھی آتا ہے۔جب کہ پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن اپنی سیاسی محرومی کے خاتمہ کے لیے ملک کے جمہوری نظام کو خطرے سے دوچارنہ کریں، اس وقت عالمی اور ہماری سرحدی صورتحال کسی تحریک کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ممتاز عالم دین کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے ملک کے قیام کے 72 سال بعد پہلی دفعہ دینی مدارس کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں وزارت تعلیم سے منسلک کیا ہے۔مولانا فضل الرحمن اپنی سیاسی محرومی کے ازالے کے لیے مذہبی نعروں کا استعمال نہ کریں اور سیاسی امور کے لیے مذہب کا استعمال بند کریں۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ دنوں ملک کی 28 مذہبی جماعتوں نے مولانا فضل الرحمن کے ان مذہبی نعروں سے لا تعلقی کا اظہار کیا تھا اور ان کی اس تحریک اور ہنگامہ آرائی سے سب سے زیادہ نقصان کشمیر کاز اور ملک کو ہوگا۔
مفتی عبدالقوی