راولپنڈی خودکش دھماکے میں 20 مرتبہ سزائے موت پانے والا بری

60

اسلام آباد (آن لائن) عدالت عظمیٰ نے آرے بازار راولپنڈی خود کش دھماکا میں 20 مرتبہ سزائے موت پانے والے ملزم کو بری کر دیا ہے۔ کیس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 20 قیمتی جانیں چلی گئیں سرکار نے اچھا
کیس نہیں بنایا، شہادت قانون کے مطابق نہ ہو تو ہم کیا کریں، ملوث ہونے میں ثابت کرنے کے لیے کچھ تو شہادت ہونی چاہیے۔ معاملے کی سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے کی، ملزم عمر عدیل پر راولپنڈی کے آرے بازار میں خود کش بمبار کی معاونت کا الزام تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو 20 مرتبہ سزائے موت سنائی تھی جسے لاہور ہائیکورٹ نے برقرار رکھا۔ لاہور رجسٹری سے وڈیو لنک کے ذریعے دلائل میں سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ یہ عام دھماکا نہیں بلکہ اس میں ملک و قوم کے محافظین کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 20قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 20 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں تاہم سرکار اچھا کیس بنانے میں ناکام رہی۔ 11 ماہ بعد شناخت پریڈ لا رہے ہیں، کیا 11 ماہ بعد کسی کی شکل یاد رہتی ہے۔ جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ کیا سرکار کو اتنے بڑے بازار میں 2 پولیس اہلکاروں کے علاوہ کوئی گواہ نہیں مل سکا، ان گواہوں کی گواہی 4-5ماہ بعد لے کر ضمنی کے شروع میں ڈال دی گئی، ہم نے اللہ کے سامنے جواب دینا ہے، شہادت قانون کے مطابق نہ ہو تو ہم کیا کریں؟ ملوث ہونے میں ثابت کرنے کے لیے کچھ تو شہادت ہونی چاہیے، عدالت ملزم کی بریت کا حکم سناتے ہوے کیس نمٹا دیا ہے۔
روالپنڈی/خود کش کیس