زرعی پالیسیوں کی ناکامی سے معیشت تباہ ہوگئی، میاں اسلم

30

لاہور (نمائندہ جسارت) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی زرعی پالیسیوں کی ناکامی سے کسانوں کی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔کروڑوں کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے جماعت اسلامی جے آئی کسان بورڈ کے شانہ بشانہ کاشتکاروں کے حقوق کی جنگ لڑے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں جے آئی کسان کے ذمے داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں جے آئی کسان کے صد ر چودھری نثار احمد ،سیکرٹری جنرل چودھری حافظ حسین احمد ،سلیم صفدر نول،صوفی محمد ریاض وڑائچ،صدر خیبر پختونخوا رضوان اللہ خان ، سیکرٹری صالح محمد رانجھا اور دیگر موجود تھے۔جے آئی کسان کی سہ ماہی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد میاں اسلم نے کہا کہ اس وقت ملک کے بڑے کسانوں کی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ شوگر ملوں نے کسانوں کے اربوں روپے دبا رکھے ہیں اور موجودہ حکومت بھی کسانوں کے واجبات دلانے میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں صنعتکاروں کو 752ارب روپے معاف کیے گئے مگر بعد میں عوامی دبائو پر وزیراعظم نے فیصلہ واپس لے لیا، وہ رقم کسانوں سے وصول کی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اربوں روپے کی یہ رقم کسانوں کو دی جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کسان تنظیموں کے مشور ے سے زرعی پالیسی کا اعلان کرے اور ڈوبتی زرعی معیشت کو تباہی سے بچائے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر سے نکلنے والے دریائوں کا پانی زراعت کے لیے زندگی ہے اس لیے ملک بھر کے کسان کشمیر کی آزادی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیں گے۔