پارلیمنٹ میں اکھاڑ پچھاڑ سے عوام میں مایوسی پھیلتی ہے، صدر مملکت

40

اسلام آباد(صباح نیوز)صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں اکھاڑ پچھاڑ کی کیفیت سے عوام میں مایوسی پیدا ہوتی ہے اور یہ تاثر جنم لیتا ہے کہ عوامی مسائل کو نظر انداز کیا جارہاہے، اسمبلیوں کوچلانا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی مشترکہ ذمے داری ہے، تنقید انتہائی حساس معاملہ ہے، حکومتوں میں اسے بعض اوقات سازش بھی تصور کیاجاتا ہے تاہم مضبوط معاشروں کیلئے تنقید کاخندہ پیشانی سے سامناکرنا چاہیے ، سوشل میڈیا کو بھی ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہاں پر مصدقہ اطلاعات کے حوالے سے چھلنی نہیں ہے، جدید دور کے تقاضوں کے مطابق صدر پاکستان نے ذرائع ابلاغ کے حوالے سے جامع اور یکساںموثر قانون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔جمعرات کو ایوان صدر میں پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو باڈی سے ملاقات میں ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ رائے عامہ ہموار کرنے کے حوالے سے پرنٹ میڈیا کی اہمیت بڑھ گئی ہے، میں ٹی وی نہیں دیکھتا اور اخبارات کا تفصیل سے مطالعہ کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا میں تصدیق اور جانچنے کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے پریشانی بڑھ رہی ہے۔ مجموعی طورپر میڈیا کے حوالے سے قانونی دائرہ کار ہونا چاہیے حکومت کی میڈیا کے حوالے سے اپنی سوچ ہوتی ہے کیونکہ تنقید انتہائی حساس معاملہ ہوتا ہے۔ جامع قانون بنانے کے لیے تمام شراکت داروں ، حکومت ،صحافیوں، مالکان اور پارلیمنٹ کو مشترکہ لائحہ عمل بنانا چاہیے۔ صحافیوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بناناہے۔ ملاقات پی آراے کے صدر بہزادسلیمی نے صدرمملکت کو صحافیوں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا ۔ عارف علوی نے پی آراے کو صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ صدر عارف علوی کی سیکرٹری اطلاعات زاہدہ پروین کو میڈیا سے متعلق زیر التوا قانون سازی کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ صدر عارف علوی نے میڈیا کے مسائل کے حل کے لیے خصوصی ٹاسک فورس کے قیام سے متعلق پی آراے کی تجویز سے اصولی اتفاق کرلیا ہے۔