جج وڈیو اسکینڈل:اسلام آباد ہائیکورٹ میں نوازشریف کی درخواست قابل سماعت قرار

37

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے جج وڈیوا سکینڈل کے حوالے سے نواز شریف کی متفرق درخواست قابل سماعت قراردیا اورنیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے14روز میں جواب جمع کرانے کا حکم دیا،کیس مزید 2 ہفتے کے بعد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔نوازشریف نے اپیل کے دوران اضافی شواہد کا جائزہ لینے کی درخواست کی استدعا کی تھی،کیس کی پیپربکس کی تیاری ہو چکی ہے،فریقین نے کاپیاں حاصل کرلیں۔دوسری طرف نیب نے نوازشریف کی فلیگ شپ میں بریت کے خلاف اپیل دائرکر دی۔نیب نے عدالت سے استدعا کی کہ ٹرائل کورٹ میں پیش کی گئی دستاویزات عدالت میں جمع کرانے کی اجازت دی جائے۔نیب نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ دستاویزات میں سنگین ریکارڈ اور پراپرٹی کی تفصیلات شامل ہیں۔25جون کو عدالت نے نیب کو دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔نوازشریف کی بریت کے خلاف زیر سماعت اپیل کے ساتھ ریکارڈ منسلک کرنے کا حکم دیا جائے۔ملزمان کی کمپنیزکی ملکیت پراپرٹیز کا ریکارڈ بھی درخواست میں شامل ہے۔علاوہ ازیںاسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کے ملزمان خواجہ عبدالغنی مجید اور انور مجید کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل 2 رکنی ڈویژن بینچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کے خواجہ عبدالغنی مجید اور انور مجید کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم خواجہ انور مجید ملیر جیل کراچی جبکہ خواجہ عبدالغنی مجید اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ انور مجید کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ انور مجید کی حالت بہتر ہے اور وہ اب سفر کر سکتے ہیں۔ ملیر جیل کراچی کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے انور مجید کو کراچی سے اسلام آباد لانے کے لیے رابطہ ہی نہیں کیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ ملزم کا بیان ہی قلمبند نہیں کیا گیا جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے نیب نے اپنا کیس خود خراب کیا ہے۔ملزم کا بیان ریکارڈ کیے بغیر ریفرنس دائر کر دیا گیا۔ نیب پراسیکیوٹر نے وضاحت کی کہ دونوں ملزمان کی بے نامی کمپنیاں اور بے نامی اکاؤنٹس ہیں ، ابھی ضمنی ریفرنس دائر کیا جائے گا۔ عدالت نے نیب حکام کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ضمنی ریفرنس کی اصطلاح نیب کی خودساختہ ہے ہم اس کے خلاف فیصلہ دیں گے۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔