این ایچ اے نے شاہراہوں کے 9ارب زرعی بینک کو سود پر دیدیے

37

اسلام آباد(آن لائن) نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے کرپٹ افسران نے موٹروے او شاہراہوں کی تعمیر کے لیے مختص 9ارب روپے سود پر زرعی ترقیاتی بینک کو دے رکھے ہیں جبکہ زرعی بینک نے 17فیصد سے سود پر حاصل کیا گیا قرضہ غریب کسانوں کو14فیصد سود پر قرضے دے رہے ہیں یہ کام ریاست مدینہ میں وقوع پذیر ہو رہا ہے جس کا سربراہ ملک میں نظام انصاف لانے کا عزم کر رکھا ہے، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کا وفاقی وزیر مراد سعید ہیں جو بچگانہ حرکتوں کے باعث ملک میں مشہور ہو چکے ہیں اور روزانہ پرانی ریکوری کی پریس ریلز جاری کرکے اپنی کارکردگی بہتر کر رہے ہیں، مراد سعید کا بھی نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے کرپٹ نظام کا علم ہے نہ وہ اس محکمے سے کرپشن اور بدعنوانی ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، سرکاری دستاویزات میں انکشاف ہوا کہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی نے شاہراہوں اور موٹرویز کی تعمیرکے لیے9 ارب روپے قومی خزانہ سے حاصل کیے تھے، کرپٹ حکمرانوں کے کرپٹ افسران نے ملک میں شاہراہیںبنانے کے بجائے زرعی ترقیاتی بینک میں17فیصد سود پر سرمایہ کاری پر لگا رکھے ہیں اور یہ تمام خاموشی اور راز داری کے ساتھ ہوا ہے جس کا علم کرپٹ افسران نے کسی بھی افسر کو نہیں ہونے دیا ۔اس سرمایہ کاری کا علم صرف اور صرف چیئرمین این ایچ اے اور سیکرٹری مواصلات کے علاوہ چیئرمین زرعی ترقیاتی بینک کو ہے، دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے حکام نے9ارب روپے زرعی بینک کو دیتے ہوئے ملکی قواعد وضوابطہ کی شدید خلاف ورزی کی ہے، بالخصوص پیپرا رولز کی اگر شفاف طریقہ سے بولی کے ذریعے9ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہوتی تو ادارے کو سالانہ اربوں روپے کا فائدہ ہونا تھاتاہم دونوں حکومتی اداروں نے9ارب قوم کا لوٹ کر ذاتی تجوریاں بھری ہیں جبکہ ملک کے غریب کسانوں کو بھاری سود پر قرضہ دے کر بیڑا غرق کر دیا ہے، قومی خزانے میں فنڈز عوام کے ذریعے آتے ہیں، حکومتی کرپٹ افسران عوامی فنڈز لے کر دوبارہ بھاری سود پر عوام کو قرضے دیتے ہیں جوکہ مدینہ ریاست کے دعویدار ظلم اور ناانصافی کرنے میں مصروف ہیں۔ زرعی ترقیاتی بینک کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ این ایچ اے نو9ارب روپے ڈیپازٹ کرائے تھے جبکہ یہ 9 ارب روپے واپس لے لیے گئے ہیں۔