سندھ: کرپشن میں ملوث سر کاری افسران کی گرفتاری کا فیصلہ

38

کراچی(اسٹاف رپورٹر)اینٹی کرپشن سندھ کی کمیٹی ون کا اہم اجلاس ، بڑ ے فیصلے ، بیوروکریسی میں کھلبلی مچ گئی۔ تفصیلات کے مطابق اجلاس میں محکمہ سندھ کے مختلف محکموں میں اربوں کی کرپشن کے خلاف بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے فیصلے کیے گئے ہیں، محکمہ اسکول ایجوکیشن، یونیورسٹی اور بورڈز، محکمہ خوراک، بلدیات ، ورکس اینڈ سروسز ، محکمہ کوآپریٹو سمیت متعدد محکموں میں بدعنوانوں کی شامت آنے والی ہے، سندھ سیکرٹریٹ کمپلیکس 7 اور 8 کی تعمیر میں کروڑوں روپے کے گھپلوں میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کامران آصف سمیت ٹھیکیدار کو گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جیکب آباد میں گھوسٹ اساتذہ کی کروڑوں روپے کی تنخواہوں کی وصولی کے گھپلوں میں 17 مقدمات درج کرنے اور 76 افراد کو گرفتار کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے، کراچی اور حیدرآباد میں محکمہ یونیورسٹی بورڈ میں بے نظیر بھٹو یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام اور ووکیشنل ٹریننگ سینٹر میں کروڑوں روپے کے گھپلوں میں ملوث 22 افراد کو گرفتار کرنے کی ہدایت جاری کردی، اجلاس کے دوران محکمہ خوارک میں سنگین بدعنوانیوں میں ملوث کراچی اور دادو کے 10 افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے، کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس کو تقریبات کے لیے استعمال کرکے قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچانے میںملوث سابق ڈائریکٹر طاہر درانی سمیت 9 افسران اور 6 کیٹرنگ سروس کمپنیوں کے ذمے داروں کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ، سندھ بلوچ سوسائٹی میں گھپلوں پر سوسائٹی کے چیئرمین سمیت 9 عہدیداروں کو گرفتار کرنے کی منظوری بھی دی گئی ہے،محکمہ لائیواسٹاک، محکمہ اقلیتی امور میں گھپلوں میں ملوث متعددافسران کے خلاف مقدمات درج کرکے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔