مستند ہے میرا فرمایا ہوا

414

 امریکی سفارت کاروں کی گفتگو سن اور پڑھ کر اکثر میر کا شعر یاد آجاتا ہے۔ میر نے کہا ہے۔
سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا
امریکی سفارت کار کہتے ہیں مگر ان کی گفتگو اور اس کے انداز میں یہ دونوں دعوے موجود ہوتے ہیں۔ بلاشبہ امریکی سفارت کاروں کا یہ دعویٰ درست ہوتا ہے کہ ان کا ملک سارے عالم پر چھایا ہوا ہے مگر بدقسمتی سے امریکی سفارت کاروں کا فرمایا ہوا ہرگز سند نہیں ہوتا۔ ہم نے امریکی سفارت کاروں کی گفتگو کے حوالے سے یہ بات نوٹ کی ہے اس کی گفتگو میں مغز ہوتا ہی نہیں ان کی گفتگو میں صرف بھوسا ہوتا ہے۔ بہت سارا بھوسا۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ جب امریکا کی طاقت ہی ’’علم‘‘ ہو اور امریکا کی طاقت ہی ’’دلیل‘‘ ہو تو امریکی سفارت کاروں کو علم اور دلیل کی ضرورت کیوں ہوگی؟۔
پاکستان کے لیے امریکا کے سابق سفیر کیمرون منٹر نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کافی بھوسا تخلیق کیا ہے۔ مثلاً انہوں نے فرمایا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کے لیے بھارت سے محبت کرنا مشکل ہے مگر پھر بھی پاکستان کو بھارت سے محبت کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے لیے میکسیکو طویل عرصہ تک ایک مسئلہ بنا رہا مگر بالآخر امریکا کو میکسیکو کی بات پر توجہ دینی پڑی۔
بھارت پاکستان کا دشمن نمبر ایک ہے۔ کبھی امریکا کا دشمن نمبر ایک سوویت یونین تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ امریکا نے 70 برس میں کبھی اپنے دشمن نمبر ایک سوویت یونین سے محبت نہیں کی۔ اس کے برعکس امریکا نے سوویت یونین کے خلاف پروپیگنڈے کی اتنی گرد اُڑائی کہ مغربی دنیا کے لوگوں کو سوویت یونین صرف ایک شیطان نظر آتا تھا۔ حالاں کہ اس شیطان کا حال یہ تھا کہ اس کے دائرے میں تعلیم اور صحت کی سہولتیں مفت تھیں۔ سوویت یونین میں کوئی بیروزگار نہ تھا۔ سوویت یونین میں مطالعے کا شوق اتنا زیادہ تھا کہ اوسطاً سوویت یونین کا ہر شہری روزانہ دو اخبارات پڑھتا تھا۔ سوویت معاشرے میں جوئے اور قحبہ گری کا نام و نشان نہ تھا۔ یہ ایسی خوبیاں تھیں جو امریکا کو سوویت یونین سے محبت پر مائل کرنے کے لیے کافی تھیں۔ مگر امریکا 70 سال تک سوویت یونین سے نفرت ہی کرتا رہا۔ امریکا نے سوویت یونین سے محبت کی ہوتی تو کیمرون منٹر پاکستان کو بھارت سے محبت کا مشورہ دیتے ہوئے اچھے لگتے۔ یہاں کہنے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ آخر کیمرون منٹر بھارت سے کیوں نہیں کہتے کہ وہ پاکستان سے محبت کرکے دکھائے۔ بھارت رقبے کے اعتبار سے پاکستان سے چار گنا بڑا ہے اور آبادی کے حوالے سے پاکستان اور بھارت میں ایک اور سات کا فرق ہے۔ چناں چہ بھارت کے لیے پاکستان سے محبت کرنا آسان ہے۔ جہاں تک امریکا اور میکسیکو کے تعلق کا معاملہ ہے تو کیمرون منٹر بتائیں کہ میکسیکو نے کیا امریکا کو دولخت کرکے وہاں بنگلادیش بنایا ہے؟ میکسیکو نے کیا امریکا کے تصور آزادی اور جمہوریت کو خلیج میکسیکو میں غرق کیا ہے؟ میکسیکو نے کیا امریکا کے کشمیر، جونا گڑھ اور حیدر آباد دکن پر قبضہ کیا ہے؟ مطلب یہ کہ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے امریکا اور میکسیکو کے تعلقات کی مثال دی ہی نہیں جاسکتی مگر چوں کہ امریکی سفارت کاروں کا فرمایا ہوا مستند ہوتا ہے اس لیے کیمرون منٹر نے پاک بھارت تعلقات کو میکسیکو اور امریکا کے تعلقات سے جا بھڑایا۔
کیمرون منٹر نے ایک بات یہ کہی کہ پاکستان کو بھارت کے سلسلے میں ’’اسمارٹ ڈپلومیسی‘‘ سے کام لینا چاہیے، کیوں کہ ان کے بقول ڈپلومیسی کے ذریعے ہی پاکستان تنازعات کو حل کرسکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو یاد دلایا کہ پڑوسی بدلے نہیں جاسکتے۔ امریکا ایک جانب بھارت ، اسرائیل اور یورپ کے ساتھ مل کر پاکستان کا گلہ دبانے میں لگا ہوا ہے اور دوسری جانب امریکا کا سابق سفیر پاکستان کو باور کرا رہا ہے کہ تم ’’اسمارٹ‘‘ نہیں ہو۔ لیکن اگر تم ’’اسمارٹ‘‘ ڈپلومیسی ’’اختیار کرو تو تنازعات حل کرسکتے ہو۔ پاکستان 72 سال سے بھارت کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے مگر بھارت نے کبھی مذاکرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ چوں کہ سرد جنگ کے زمانے میں امریکا کا اتحادی تھا اس لیے امریکا بھارت پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے دبائو ڈالتا تھا تو بھارت مذاکرات شروع کردیتا تھا مگر وقت گزاری اور خانہ پوری کے لیے۔ جیسے ہی وقت گزرتا تھا اور خانہ پوری کا کام تکمیل کو پہنچ جاتا تھا بھارت مذاکرات کی میز سے اُٹھ کر بھاگ کھڑا ہوتا تھا۔ چوں کہ اب امریکا پاکستان کے بجائے بھارت کا اتحادی بن گیا ہے اس لیے اب بھارت کو وقت گزاری اور خانہ پوری کے لیے بھی مذاکرات کی ضرورت نہیں۔ اب وہ پاکستان سے صرف طاقت کی زبان میں بات کررہا ہے، بھارت کی اس طاقت میں امریکا کی طاقت بھی شامل ہے۔ امریکا اور بھارت کی مشترکہ طاقت کے مقابلے پر پاکستان کتنی ’’اسمارٹ ڈپلومیسی‘‘ کا مظاہرہ کرسکتا ہے؟ غور کیا جائے تو یہاں کیمرون منٹر کی اسمارٹ ڈپلومیسی کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اپنے اسلامی، تہذیبی اور تاریخی تشخص کو بھول جائے اور بھارت کی بالادستی کے آگے سر جھکادے۔ جس دن پاکستان یہ کرے گا امریکا کے نزدیک پاکستان دنیا کا اسمارٹ ترین ملک ہوگا۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے امریکا 40 سال تک پی ایل او کے رہنما یاسر عرفات کو دہشت گرد قرار دیتا رہا۔ مگر جیسے ہی انہوں نے امریکی کھیل کے مطابق اسرائیل کے وجود کو تسلیم کیا اور اسرائیل کے ساتھ اوسلو امن معاہدے پر دستخط کیے یاسر عرفات اتنے ’’اسمارٹ‘‘ ہوگئے کہ امریکا نے انہیں امن کا نوبل انعام دلا دیا۔ مگر بدقسمتی سے نوبل انعام بھی یاسر عرفات کے کام نہ آیا۔ اسرائیل نے تین ماہ میں اوسلو امن معاہدے پر تھوک دیا۔ یاسر عرفات کو تین سال تک ان کے دفتر میں محصور رکھ کر زہر دے دیا۔ کیمرون منٹر بھی پاکستان سے ایسی ہی ’’Smartness‘‘ کی اُمید کررہے ہیں۔ بلاشبہ پاکستان میں بھی یاسر عرفاتوں کی کوئی کمی نہیں مگر ابھی کوئی یاسر عرفات منظر پر موجود نہیں۔ کیمرون منٹر نے کشمیر کے سلسلے میں یہ بھی فرمایا کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں مزید کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ کیمرون منٹر نے یہ بات اسی طرح کہی ہے جیسے کشمیر دوچار سال پرانا مسئلہ ہے۔ چناں چہ وہ کہہ رہے ہیں کہ کشمیر جیسا مسئلہ دوچار سال میں تھوڑی حل ہوتا ہے۔ کشمیر 72 سال پرانا مسئلہ ہے تو کیا کیمرون منٹر چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کے حل
کے لیے پاکستان کو مزید 72 سال انتظار کرنا چاہیے۔ یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے لوگوں کو صرف دوسال میں آزادی مل گئی اس لیے کہ دونوں جگہ عیسائیوں کی اکثریت تھی۔ عیسائی تو ’’انسان‘‘ ہیں البتہ کشمیر اور فلسطین کے ’’مسلمان‘‘ تو ’’جانور‘‘ ہیں۔ انہیں آزادی ملنی ہی نہیں چاہیے یا کم از کم آزادی کے لیے ڈیڑھ سو سال انتظار کریں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ کشمیر کے لوگوں کو ڈیڑھ سو سال بھی آزادی نہیں ملے گی۔ اس لیے کہ امریکا بھارت کو سپر پاور بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ وہ بھارت کو سلامتی کونسل میں ویٹو پاور سے آراستہ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ بھارت جس دن سپر پاور بن جائے گا امریکا پاکستان سے کہے گا ’’تمہاری یہ مجال کہ ایک سپر پاور کے منہ کو آئو؟‘‘ پہلے امریکا پاکستان کو دھمکی دیتا تھا کہ تم نے ہمارے آگے سر نہ جھکایا تو تمہیں پتھر کے زمانے میں بھیج دیں گے۔ پھر وہ یہ دھمکی بھارت سے دلوائے گا۔ پاکستان میں بھارتی لابی اتنی مضبوط ہے کہ وہ اس دھمکی سے ملک میں خوف پھیلائے گی۔ پاکستان میں موجود بھارتی لابی کی رسائی کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی کو اچانک بدل دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان کو لکھا گیا خط ملیحہ لودھی نے بھارتی لابی کو لیک کردیا تا کہ عمران خان کے دورئہ امریکا کو ناکام بنایا جاسکے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سیاسی اور صحافتی حلقوں میں ملیحہ لودھی کو ’’اسٹیبلشمنٹ کے قریب‘‘ باور کیا جاتا ہے۔ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ قربت رکھنے والی ملیحہ لودھی بھارت کے لیے بروئے کار آسکتی ہیں تو اسٹیبلشمنٹ سے فاصلے رکھنے والے لوگ بھارت کے لیے کیا نہیں کرسکتے؟۔
باقی صفحہ7نمبر1
کیمرون منٹر نے پاکستان کو ’’دھمکی نما مشورہ‘‘ دیا کہ وہ امریکا اور چین دونوں کے ساتھ تعلقات رکھے اور چین کی طرف زیادہ جھکنے کی کوشش نہ کرے۔ سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان 60 سال تک امریکا کے ساتھ بہت زیادہ جھک کر اپنی خارجہ پالیسی میں عدم توازن پیدا کرسکتا ہے تو وہ پانچ دس سال کے لیے چین کی طرف زیادہ جھک کر اپنے لیے ’’نیا راستہ‘‘ کیوں تلاش نہیں کرسکتا؟ پاکستان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو پاکستان کو مشورہ دیتے ہیں کہ اسے امریکا اور چین دونوں سے تعلق رکھنا چاہیے اور چین کی طرف زیادہ نہیں جھکنا چاہیے۔ فی الحال پاکستان دونوں کشتیوں کی سواری کا ’’لطف‘‘ اُٹھا سکتا ہے، اس لیے کہ چین امریکا تعلقات ابھی ایک حد سے زیادہ خراب نہیں ہوئے۔ لیکن چین امریکا تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی تو دو کشتیوں کی سواری پاکستان کو چیر کر رکھ دے گی اور اسے کسی ایک کیمپ میں کھڑا ہونا ہوگا۔ بدقسمتی سے پاکستان 60 سال سے امریکی کیمپ میں کھڑا ہے اور اس کے دونوں ہاتھ خالی ہیں۔ ابھی پاکستان نے اپنے تمام انڈے چین کی ٹوکری میں نہیں رکھے مگر چین پاکستان کو اپنا تزویراتی شراکت دار کہتا ہے۔ اس سے امریکا اور چین کا فرق صاف ظاہر ہے۔ کیمرون منٹر نے پاکستان سے یہ بھی کہا کہ وہ چین کے ساتھ اپنے تعلق کا جائزہ لے اور دیکھے کہ چین کی قربت کے پاکستان کے کلچر پر کیا اثرات پڑیں گے؟۔ چین کی ثقافت ہمیں کیا نقصان پہنچا سکتی ہے، اس کا فیصلہ ابھی ہونا ہے۔ البتہ مغربی ثقافت نے پاکستان کی تہذیبی زندگی کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، اس تباہی کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ ہم، ہم نہیں رہے۔ نہ مذہبی اعتبار سے، نہ تہذیبی اعتبار سے، نہ تاریخی اعتبار سے، نہ علمی اعتبار سے۔ آپ نے دیکھا امریکا کے سابق سفیر کی ایک بات بھی علم اور عقل کے مطابق نہیں۔ ان کی گفتگو میں ہر طرف ’’مستند ہے میرا فرمایا ہوا‘‘گونج رہا ہے۔