یورپی تنقید مسترد، ترکی کی 36 لاکھ شامی مہاجرین بھیجنے کی دھمکی

670

استنبول/ دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے شام میں ’’محفوظ علاقہ‘‘ قائم کرنے کے لیے کرد علاحدگی پسند عسکری تنظیموں کے خلاف شروع کی گئی فوجی کارروائی پر مختلف ممالک کی تنقید مسترد کردی ہے۔ تُرک ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر اردوان نے جمعرات کے روز استنبول میں اپنی حکمراں جماعت ’’انصاف و ترقی پارٹی‘‘ کے جلسے سے خطاب میں یورپی یونین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک نے ’’منبع امن آپریشن‘‘ کو قبضے کی کوشش قرار دیا، تو ہمارا کام مزید آسان ہوجائے گا۔ ہم اپنی سرحدیں کھول دیں گے اور ان کی جانب 36 لاکھ شامی مہاجر بھیج دیں گے۔ انہوںنے کہا کہ یورپی یونین نے شامی مہاجرین کے لیے 3 ارب ڈالر پر مشتمل امداد کی دوسری قسط اب تک ادا نہیں کی۔ انہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور ہمیں ان پر اعتماد نہیں رہا۔ بتائیں کتنے عرب اور یورپی ممالک نے شامی تارکین وطن کو قبول کیا، ہم جواب کے منتظر ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تم جھوٹے ہو۔ اردوان پر جتنی چاہے تنقید کرو، لیکن ہم اس راستے پر ثابت قدمی سے چلتے رہیں گے۔تُرک صدر کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے والے ممالک محض بیان بازی کرتے ہیں، جب کہ ترکی عملی اقدامات کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، بلجیم، پولینڈ اور ہالینڈ نے بدھ کے روز شمال مشرقی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف تُرک فوجی آپریشن کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔ اسی طرح بدھ ہی کے روز سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ریاض حکومت شمال مشرقی شام میں تُرک فوج کی جارحیت کی مذمت کرتی ہے اور اسے شام میں ترکی کی فوجی مداخلت وعرب ملک کی وحدت، آزادی اور خودمختاری کی صریح خلاف ورزی سمجھتی ہے۔ تاہم صدر اردوان نے سعودی عرب کو بھی جواب دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب منبع امن آپریشن پر تنقید کرنے سے قبل اپنے گریبان میں جھانکے۔ انہوں نے سوال کیا کہ یمن کو اس حال پر کس نے پہنچایا ہے۔ کیا وہاں ہزاروں شہری نہیں مارے گئے۔ صدر اردوان نے یہ بھی کہا کہ خاص طور پر مصر میں حکومتی سربراہ کو ایک لفظ بھی بولنے کا حق نہیں۔ وہ اپنے ملک میں جمہوریت کا قاتل ہے۔ دوسری جانب شام میں ترکی کی فوجی کارروائی جاری ہے۔ جمعرات کے روز تُرک فوج اور شامی مزاحمت کاروں نے کئی دیہات کرد جنگجوؤں سے آزاد کرالیے، جب کہ ترکی پر کردوں کی گولہ باری سے 6 شہری جاں بحق اور 13 زخمی ہوئے۔