۔ 63 ہزار فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کا اسرائیلی منصوبہ

41

 

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) قابض ریاست اسرائیل نے مقبوضہ جزیرہ نما النقب سے 63 ہزار فلسطینیوں کی بے دخلی کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے مرکز برائے العدالہ کی رپورٹ میں بتایا ہے کہ نام نہاد اسرائیلی منصوبہ بندی اور تعمیراتی کمیٹی نے جزیرہ نقب سے متعلق ’’آبادکاری اتھارٹی‘‘ کے پیش کردہ اس منصوبے پر غور کیا ہے جس کے تحت جزیرے میں آباد 36 ہزار فلسطینیوں کو وہاں سے بے دخل کرنا ہے۔ واضح رہے کہ جزیرہ نما النقب میں ڈیڑھ سو کے زائد ایسی فلسطینی بستیاں اور گائوں موجود ہیں جنہیں اسرائیل نے غیر قانونی قرار دے رکھا ہے اور ان میں آباد فلسطینیوں کو وہاں سے بے دخل کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ جزیرہ نما النقب میں سرگرم امن بقائے باہمی کے لیے کام کرنے والی تنظیم شیٹل نے اسرائیلی منصوبہ بندی کونسل کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ جزیرہ نما النقب سے فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی کے منصوبے پرعمل روکیں۔ مرکز سے انسانی حقوق کی مندوب اور قانون دان سہاد بشارہ کے ارسال کردہ مراسلے کے مطابق فلسطینیوں کی بے دخلی کا کوئی بھی منصوبہ قبول نہیں۔ اس طرح کی اسکیموں پرعمل فوری طورپر روکا جائے۔ جزیرہ النقب سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنا انسانی عزت، وقار اور مساوات کے تمام حقوق سراسر نفی ہے۔ خط میں نشاندہی کی گئی کہ اسرائیلی کی طرف سے پابندیاں فلسطینی دیہاتیوں پر کی گئی ہیں، جو وہ کئی دہائیوں سے برداشت کر رہے ہیں۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ اسرائیل جزیرے میں بسنے والے فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔