نوازشریف کا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کی مکمل حمایت کا اعلان‘ دھرنے میں شرکت کی ہدایت

62

لاہور(نمائندہ جسارت+مانیٹرنگ ڈیسک) کوٹ لکھپت جیل میں قید سابق وزیراعظم نواز شریف نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ ن لیگ کے تاحیات قائد کا جیل سے لکھا گیا خط فضل الرحمن کو موصول ہوگیا ، خط میں نواز شریف نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ن لیگ ہر قسم کا تعاون کرے گی، ن لیگ کی پوری قیادت آپ کے مارچ کی حمایت کرتی ہے۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ حکومت کے خاتمے کے لیے ن لیگ پوری طرح آپ کے ساتھ ہوگی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ناجائز اور مسلط کردہ حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ خیال رہے شہباز شریف نے کوٹ لکھپت جیل میں بڑے بھائی کو آزادی مارچ کے حوالے سے پارٹی کی سفارشات سے آگاہ کرنا تھا لیکن اچانک کمر درد کے باعث ملاقات ملتوی ہوگئی تھی۔کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف اور مریم نواز سے اہل خانہ نے ملاقات کی تھی ، جس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے بتایا کہ نواز شریف نے لیگیوں کو فضل الرحمن کے دھرنے میں شرکت کی ہدایت کی ہے ، دھرنے کے قائد مولانا فضل الرحمن اور ہم سب مقتدی ہوں گے ۔کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے کہا کہ فضل الرحمن آزادی مارچ کے دلہا ہیں اور ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، مسلم لیگ ن کے تمام رہنما نواز شریف کی قیادت میں متفق ہیں، نواز شریف اور مریم نواز پر عزم ہیں اور یکسوہیں کہ فضل الرحمن کے دھرنے میں شرکت کرنی ہے۔انہوںنے کہا کہ ن لیگ مولانا فضل الرحمن کو آزادی مارچ میں شرکت پر 3مرتبہقبول ہے قبول ہے قبول ہے کہہ چکی ہے، دھرنے کے قائد مولانا فضل الرحمن اور ہم سب مقتدی ہوں گے۔ نوازشریف کے داماد نے یہ بھی کہا کہ شہباز شریف مارچ میں شامل نہ ہوسکے تو لاہور میں استقبال ضرور کریں گے۔یاد رہے گذشتہ روز مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کا اجلاس شہباز شریف کی رہائش گاہ پر ہوا تھا، جس میں شہباز شریف، راجا ظفر الحق، احسن اقبال سمیت مرکزی قیادت آزادی مارچ میں شرکت کی ہامی نہیں تھی جبکہ جونیئرقیادت نے مارچ میں شرکت کی تجویز دی تھی۔جاوید لطیف، امیر مقام اور سینیٹر پرویز رشید مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں شرکت کے حامی تھے۔علاوہ ازیں نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ن لیگ کے صدر شہباز شریف کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی جانب سے آزادی مارچ میں شرکت کے اعلان پر ناراض ہوگئے ہیں اسی وجہ سے انہوں نے جیل میں نواز شریف سے ہفتہ وار ملاقات بھی نہیں کی تاہم اب وہ محکمہ داخلہ پنجاب کی خصوصی اجازت سے آئندہ 48 سے 72 گھنٹوں کے دوران نواز شریف سے خصوصی ملاقات کریں گے۔