موجودہ حکومت کے اقدامات لاکھوں لوگوں کو فاقہ کشی پر مجبور کررہے ہیں،میر محمد یوسف شاھوانی

72

کراچی(اسٹاف رپورٹر)آل پاکستان آئل ٹینکرزایسوسی ایشن کے چئیرمین میر محمد یوسف شاھوانی نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید سے اپیل کی ہے کہ ہمارے ساتھ ملاقات کے لئے وقت دیا جائے اور لاکھوں لوگوں کو بے روزگار ہونے سے بچایا جائے،بصورت دیگر27 اکتوبر سے تحریک شروع کی جائے گی،

جس میں فاقہ کشی پر مجبور آئل ٹینکرز سے منسلک پریشان لوگ کوئی بھی راستہ اختیار کرسکتے ہیں،وہ جمعرات کو پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے،انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں لاکھوں لوگوں کو فاقہ کشی پر چئیر پرسن اوگراور چئیرمین این،ایچ،اے کے اقدامات پر مجبور کررہے ہیں،

وزیراعظم پی ایس او کے متعلق ان احکامات کو فوری طور پر منسوخ کرنے کے احکامات صادر کریں،انہوں نے کہا کہ آئل ٹینکرز کے متعلق ماڈل کی شرط ہرصورت ختم ہونی چاہیے،جبکہ فٹنس کی سختی ہو اور فٹنس کے معیار پر پورا اترنے والے ہر ماڈل کے آئل ٹینکرکو لوڈ کیا جائے،

انہوں نے کہا کہ اوگرا کی چئیر پرسن ظالم بنا ہوا ہے اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا جابرانہ رویہ آئل ٹینکرز سے وابستہ لوگوں میں تیزی سے بے روزگاری،فاقہ کشی میں اضافہ کررہا ہے،انہوں نے پرنٹ والیکرانک میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں صحافیوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ دنیا میں حادثات ہوتے ہیں اور حادثات کو کوئی نہیں روک سکتا،

لیکن آئل ٹینکر کے حادثے کے فوری بعد علاقے کو مکمل سیل کر کے لوگوں کو وہاں جانے سے روک دیا جاتا ہے،تاکہ سانحہ رونما نہ ہوسکے،احمد پور شرقیہ میں انتظامی نا اہلی کے باعث حادثہ،سانحے میں تبدیل ہوا پھر سرکاریادارے اپنی نااہلی چھپانے کے لئے آئل ٹینکرز پر مظالم کے پہاڑ توڑنے لگے ہیں،

اوگرا کے چئیر پرسن اور چئیرمین این،ایچ،اے عقل کل بنے ہوئے ہیں اوراپنے جنبش قلم سے ہزاروں آئل ٹینکرز منسلک اور لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کررہے ہیں،چئیر پرسن اوگرا اور این،ایچ،اے نے سرکاری آئل کمپنی پی ایس او میں اپنے من پسند مالدار کنٹریکٹر کو نوازنے کے لئے عام آئل ٹینکر مالکان جنہوں نے قسطوں پر گاڑیاں لی ہوئی ہیں احکامات صادر کئے ہیں کہ 26 اکتوبر 2019 ء سے پی ایس او میں چلنے والی پرانے ماڈل کی گاڑیاں لوڈ ہونا بند ہوجائیں گی،

جبکہ سب سے زیادہ ٹیکس ٹرانسپورٹ انڈسٹری خصوصا آئل ٹینکرز دیتے ہیں اور اس طرح کے ایک حکم نامے سے لاکھوں لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہوجائیں گے،ایران،عراق،بھارت،سری لنکا سمیت کئی ممالک میں اسی ماڈل کے آئل ٹینکر چلتے ہیں،لیکن ان گاڑیوں کی فٹنس پر سختی ہے اور مکمل فٹنس رکھنے والی ہر ماڈل کے آئل ٹینکرز لوڈ کئے جاتے ہیں۔