بلڈرز کو ملبہ اٹھانے اور دکانداروں کو کچرا دان رکھنے کا پابند بنایا جائے،وزیراعلیٰ سندھ

26

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ جاری صفائی مہم پر کام کی رفتار کو تیز کریں اور اسے موثر اور فعال بنانے کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کریں نہیں تو یہ تمام ایکسرسائز فیل ہوجائے گی، جیسا کہ تاثر پیدا ہورہاہے۔ انہوں نے یہ ہدایت وزیراعلیٰ ہائوس میں جاری کچرا اٹھانے کی مہم کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایاگیاکہ 21 ستمبر تا 8 اکتوبر 2019 تک مجموعی طورپر 450896.51 کچرا ڈپٹی کمشنر ز اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نے اٹھایا ہے ، ڈپٹی کمشنر سینٹرل نے تقریباً تمام کچرا صاف کردیاہے۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنرزنے اپنے علاقوں میں کچرا اٹھانے سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں سڑکوں کے ساتھ کچرا اور مٹی کو دیکھنا نہیں چاہتا۔ مراد علی شاہ نے صوبائی وزیر کچی آبادی مرتضیٰ بلوچ کو ہدایت کی کہ وہ ذاتی طورپر صفائی کے کام کی نگرانی کریں اور ڈی ایم سی ملیر اور کراچی ڈسٹرکٹ کونسل کو بھی اپنے ساتھ شامل کریں۔ڈی سی سائوتھ نے کہا کہ ان کے ضلع میں بھی زیادہ تر صفائی ہوچکی ہے مگر چند دکانداروں اور بوٹ بیسن پرفوڈ اسٹریٹ اور دیگر علاقوں میں کچرا سڑکوں پر پھینک دیاجاتاہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کو واضح ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ تمام بلڈرز کو مطلع کردیں کہ وہ اپنا ملبہ اپنے ذرائع سے ہٹا دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جو انکارکریں یا نہ اٹھائیں تو اْن کی عمارتوں کو سیل کردیا جائے اوراْن کے تعمیراتی کام کو روک دیاجائے۔ مراد علی شاہ نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ ہر ایک دکاندار کو اپنی دکان کے گیٹ کے سامنے ڈسٹ بن رکھنے کا پابند بنائیں جہاں پر وہ اور ان کے گاہک اپنا کچرا ڈالیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کچرا پھینکنے کے حوالے سے خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف جرمانے عاید کرنا شروع کردیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو ہدایت کی کہ وہ اپنے سیوریج کے نظام کو بہتر بنانے کا کام شروع کریںاس کے بعد میں سڑکوں کی تعمیر کا کام شروع کروں گا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبائی وزیربلدیات کو ہدایت کی کہ وہ واٹر بورڈ کو ہدایت کریں کہ وہ سیوریج کے نظام کی اوور ہالنگ کا ایک تفصیلی منصوبہ تیار کرکے انہیں آئندہ اجلاس میں پیش کریں۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی سفارش پر ورلڈ بینک نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کو دنیا کا بہترین ادارہ بنانے کے لیے 10 ملین ڈالرز کی رقم مختص کی ہے۔ اس امر کا اظہار وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور عالمی بینک کے 8 رکنی وفد جس کی قیادت اس کے گلوبل ڈائریکٹر فار اربن ، ریزیلینس اینڈ لینڈ پریکٹس گروپس ڈاکٹر سامھ ناقیوب وہابہ ٹیڈروس کررہے تھے کے درمیان ہونے والے اجلاس میں کیاگیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی نیا ادارہ ہے اسے تجربہ حاصل کرنے میں وقت لگے گا مگر اس کے باوجود اسے سائنٹیفک بنیادوں پر چلانے کی اور اسے ملک کا ایک لیڈنگ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ادارہ بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ ورلڈ بینک کے گلوبل ڈائریکٹر ڈاکٹر سامھ نے کہا کہ کراچی نیبر ہوڈ امپرومنٹ پروگرام میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لیے معاہدے ہوسکتاہے۔ انہوں نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے لیے ایک نئی لینڈ فل سائٹ کی تعمیر اور اس کی استعداد کار میں اضافے اور ٹیکنیکل مہارت کے لیے 10 ملین ڈالرز مختص کرنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ شہر کے مضافات میں ماحول دوست اور ایک جدید لینڈ فل سائٹ کو ڈیولپ کرنے کے خواہاں ہیںجوتمام مشینری ، ٹیکنیکل اسٹاف سے آراستہ ہوگی اور بجلی کی پیداوار کے لیے بھی قابل استعمال ہوگی۔وزیراعلیٰ سندھ کی درخواست پر ورلڈ بینک نے شہر کے مضافات میں 500ایکڑ سے زاید رقبے پر ایک لینڈ فل سائٹ کی تعمیر پر آمادگی ظاہر کی اس کے لیے زمین حکومت فراہم کرے گی۔
مراد علی شاہ