جیکب آباد ،ڈی سی آفس میں کھلی کچہری ،عوام نے شکایتوں کے انبار لگا دیے

79

جیکب آباد (نمائندہ جسارت) ڈی سی آفس میں کھلی کچہری، پانی کی قلت، پانی کے منصوبے میں تاخیر، گندگی، بجلی کے اضافی بلوں، سول اسپتال میں سہولیات کے فقدان، خزانہ آفس میں کرپشن کی شکایات، جرگے غیر قانونی ہیں، جعلی پولیس مقابلوں میںکمی آئی ہے، ذمے داران کیخلاف کارروائی ہورہی ہے، ریٹائر جسٹس ماجدہ رضوی۔ سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کی رکن ماجدہ رضوی نے ڈی سی غضنفر علی قادری کے ہمراہ ڈی سی آفس میںکھلی کچہری کی جس میں افسران اور شہریوں نے شرکت کی۔ سماجی رہنما عبدالحئی سومرو نے خزانہ آفس میں رشوت خوری اور ریٹائر ملازمین کو پنشن کے لیے کئی ماہ چکر لگوانے، ایجنٹ کے ذریعے کام کرنے، موتی لعل نے پانی کی قلت، فراہمی آب کے منصوبے میں تاخیر، بجلی کے اضافی بلوں کے اجرا، برونر بی نیوٹن نے اسکول جانے والی طالبات کو اوباش لڑکوں کی جانب سے تنگ کرنے، ایڈووکیٹ غضنفر پٹھان نے شہر میں بچوں کے رکشے اور موٹر سائیکل چلانے، جے یو آئی کے مولانا فدا احمد ڈول نے لیبر کالونی کے مکمل نہ ہونے، حبدار جعفری نے شہر میں گندگی، خاکروبوں کے پرائیویٹ بنگلوں میں ڈیوٹی کرنے، فخر الزمان سومرو نے اسکولوں کے عمارتوں کی حالت زار، شلو رام نے ہندو پنچائت کی الیکشن نہ ہونے، پادری شارون یوسف نے بلدیہ ملازمین کو تنخواہ نہ ملنے، گل بلیدی نے ضلع میں سیاہ کاری کے قتل کے داخل ہونے والے مقدمات میں سیاہ کاری کی دفعہ نہ لگانے اور ڈسٹر کٹ لیگل ایمپاور منٹ کمیٹی کے غیر فعال ہونے کی شکایات کیں، جس پر ریٹائر جسٹس ماجدہ رضوی نے جواب دیے۔ پانی منصوبے میں تاخیر پر ایم ایس ڈی پی کے ثنا اللہ ملاح سے باز پرس کی، حکام نے دو ماہ میں پانی منصوبے کی تکمیل کی یقین دہانی کرائی، جس پر ریٹائر جسٹس ماجدہ رضوی نے کہا کہ اگر دو ماہ میں پانی منصوبہ مکمل نہ ہوا تو ڈی سی جیکب آباد مجھے آگاہ کریں، پھر ہم اس معاملے کا دیکھیں گے۔ انہوں نے بلدیہ ملازمین کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی اور خزانہ آفس کے حکام کو اسٹاف کو ڈیوٹی کا پابند کرنے کی ہدایت کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کی ریٹائر جسٹس ماجدہ رضوی نے کہا کہ شک اور شبے کی بنیاد پر عورتو ں پر ظلم و زیادتی اور ان کی جان لینا اب بند کیا جائے، ملک کو امن و سکون کی ضرورت ہے، ہمیں کرپشن کیخلاف لڑنا ہے۔