پشاور میں چھ مدارس کے بینک اکائونٹس منجمد

29

پشاور(خبر ایجنسیاں)وفاقی تحقیقاتی اداروں کے اہلکاروں نے مشکوک ذرائع سے چندے حاصل کرنے کے الزام میں پشاور کے چھ اہم مدارس کے بینک اکائونٹس منجمد کر دیے ہیں۔وفاقی تحقیقاتی اداروں نے پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر شہروں میں قائم مدارس کے بینک اکائونٹس اور چندوں کے ذرائع کی تفصیلات جمع کرنا شروع کی ہیں۔ جس کے بعد چھ مدارس کے بینک اکائونٹس کو منجمد کیا گیا ہے۔جن مدارس کے بینک کھاتوں کو منجمد کیا گیا ہے ان میں پشاور کے راحت آباد اور حیات آباد کے مدرسے بھی شامل ہیں جب کہ تمام چھ مدارس کے منتظمین کا تعلق نظریاتی اور سیاسی طور پر مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت جمعیت علماء اسلام (ف) سے بتایا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت نے جولائی 2019 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے معاملے پر وزیرِ اعظم عمران خان سے مستعفی ہونے اور ملک میں نئے انتخابات کے لیے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ اور دھرنا دینے کا اعلان کیا ہوا ہے۔جمعیت علماء اسلام خیبرپختونخوا کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات عبدالجلیل جان نے بھی مدارس کے بینک کھاتوں کی چھان بین کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ سب کچھ انتقامی کارروائی کے تحت کیا جا رہا ہے۔اْنہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر کے آزادی مارچ میں شرکت کے لیے مدارس کے طلباء پر کوئی زور نہیں بلکہ حکومتی قوانین کے مطابق 18 سال کے ہر فرد کو حق رائے دہی حاصل ہے۔ وہ اپنی مرضی سے کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہو سکتا ہے اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ بھی لے سکتا ہے۔مدرسوں کے انتظامی امور دیکھنے والے ادارے وفاق المدارس کے ترجمان مفتی سراج الحسن نے وائس آف امریکا کو بتایا ہے کہ ابھی تک چھ مدرسوں کے بینک اکائونٹس کو منجمد کیا گیا ہے۔ان کے بقول تحقیقاتی اداروں نے یہ اقدام مشکوک ذرائع سے چندوں کے حصول کے الزام پر کارروائی کرتے ہوئے کیا ہے۔ترجمان کے مطابق رواں سال چھ مئی کو حکومت اور وفاق المدارس کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ جس کے تحت صرف محکمہ تعلیم کے بااختیار حکام کو مدارس کے بینک اکائونٹس کی چھان بین کا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ اب حکومت اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں کر رہی جس کی وجہ سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔دوسری جانب صوبائی وزیرِ اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ مدارس کے بینک کھاتوں کی چھان بین کا جمعیت علماء اسلام (ف) کے لانگ مارچ سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی پر قابو پانے کے لیے وضع کردہ قومی لائحہ عمل کے تحت قانون نافذ کرنے والے ادارے مدارس کے علاوہ دیگر غیر سرکاری اداروں کے بینک اکائونٹس کی بھی چھان بین کر رہے ہیں۔
مدارس اکائونٹ منجمد