عدالت عظمیٰ کا سندھ حکومت کو پانی سے متعلق تجاویز جمع کرانے کا حکم

31

اسلام آباد (آن لائن/ اے پی پی) عدالت عظمیٰ نے صوبائی حکومت کو پانی سے متعلق اپنی تجاویز اٹارنی جنرل اور انڈسٹریز سے متعلق پروپوزلز عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے معاملے کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی ہے۔ زیر زمین پانی کی قیمت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا ہے کہ پانی کی قیمت سے متعلق قانون کے حوالے سے صوبائی حکومتوں سے مانگی گئی سفارشات پر تاحال جواب نہیں دیا گیا، سندھ حکومت کہہ رہی ہے کہ سندھ میں پانی کی قیمتوں کے حوالے سے قانون موجود ہے، نئی سفارشات کی تیاری کیلیے کیبنٹ سے منظوری لینا ہوگی۔ چیئرمین واٹر کمیٹی ڈاکٹر احسن صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ واٹر کمیشن کمیٹی کی 3 میٹنگز ہو چکی ہیں۔ سندھ میں ایک ہزار گیلن پانی کے 50 پیسے دیے جاتے ہیں۔ اس پانی کا 40 فیصد ضائع ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں دیگر مقدمات میں عدالت عظمیٰ نے یار محمد رند کی جعلی سند پر نا اہلی کیس میں دائر نظرثانی درخواستیں خارج کر دیں۔ایک اور کیس میں سابق میئر گجرات حاجی محمد ناصر کی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی سے متعلق معاملے پر لارجر بینچ بنانے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے وکیل کو آئندہ سماعت پر تیاری کرکے آنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتے تک ملتوی کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق زیر زمین پانی کی قیمت سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ ملک میں نہری پانی کی انتہائی کم قیمت وصول کی جارہی ہے اور حکومتیں ہیں کہ سوئی ہوئی ہیں۔ سندھ حکومت کے اگر کوئی تحفظات ہیں تو پہلے اپنے طور پر طے کریں پھر سفارشات اٹارنی جنرل کو بھجوائیں۔ 3 صوبے اس معاملے پر متفق ہوچکے صرف سندھ حکومت نے ابھی تک کچھ نہیں کیا۔ لگتا ہے کہ حکومت سندھ اور کمیٹی چیئرمین ڈاکٹر احسن صدیقی میں کوئی ناراضگی ہے۔ کمیٹی چیئرمین کو اپنے تحفظات ڈرافٹ کی صورت میں صوبائی حکومتوں کو بھجوانے چاہییں۔ جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیے کہ عدالت حکم دے چکی کہ سندھ حکومت خود انڈسٹریز کی لسٹ بنا کر اس پر کام کرے۔ سندھ حکومت آئندہ سماعت پر خود لسٹ پیش کرے۔ کمپنیاں اور انڈسٹریز جو پانی زمین سے نکالیں گی اس کے چارجز ہوں گے۔