تاجروں پر تشدد قابل مذمت ہے ،مطالبات تسلیم کیے جائیں، اسمال ٹریڈرز

34

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)حکومت تاجروں کو کمزور سمجھ کر دیوار سے لگانے کی کوشش نہ کرے ۔ تاجروں پر تشدد قابل مذمت ہے ،شناختی کارڈ کی لازمی شرط ختم اور فکسڈ ٹیکس نافذ نہ ہوا اوردیگر مطالبات نہ مانے گئے تو ملک گیر پہیہ جام اور30روزہ ہڑتال کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کراچی کے صدر محمود حامد نے دھرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں آئی ایم ایف کے ڈکٹیشن پر بننے والے قوانین کے خلاف تاجروں نے اپنے قائد عمر سیلیا کی قیادت میں 19روزاپنے کاروبار بند رکھے تھے ۔ حکومت نے 3روز کے بعد ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے تو ہم ایک ماہ کی ہڑتال کی کال بھی دے سکتے ہیں ۔ انہوں نے مرکزی تنظیم تاجرا ن پاکستان کے چیئر مین کاشف چودھری کو خراج ِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اسلام آباد میں دھرنے کے لیے پورے ملک سے تاجررہنمائوں کو جمع کیا اور تاجر اتحاد کا تاریخی مظاہرہ کیاگیا ۔ محمود حامد نے کہا کہ حکومتی سطح پر تاجروں کو ٹیکس چور کہا جا رہا ہے حالانکہ اس وقت کرپشن اور ناجائزآمدنی کے جرم میں بڑے بڑے سیاستدان جیلوں میں ہیں ۔ موجودہ بجٹ میں بھی آئی ایم ایف کے احکامات پر جو ٹیکس عوام پر لگائے گئے ہیں تاجروں کو اس کا وصول کنندہ بنایا جارہا ہے جو تاجروں کے لیے ممکن نہیں۔ ہم حکومت کی کلرکی کرنے کو تیار نہیں ۔ہم جانتے ہیں کہ اس کے ذریعے کرپشن اور رشوت کے نئے دروازے کھلیں گے ۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس کے نظام کو نافذ کرے اور ملک میں معاشی جمود کو توڑے ۔ اسمال ٹریڈرز کے جنرل سیکرٹری عثمان شریف نے کہا کہ تاجر اپنی قیادت کی کال پر ہر قسم کی تحریک کے لیے تیار ہیں ۔ شناختی کارڈکی شرط کے خاتمے اور فکسڈ ٹیکس کے نظام کے لیے ہمیں 30روزبھی ہڑتال کرنا پڑی تو کریں گے۔ کراچی سے خیبر تک کے تاجر متحد ہیں اور مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کی کال پر لبیک کہنے کے لیے تیار ہیں ۔