سندھ میں دوہرے ٹیکسز سے کھیلوں کی صنعت کو دھچکا

88

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ میں دوہرے ٹیکسوں کی وجہ سے اسپورٹس اور تفریحی، انڈور کھیلوں کی صنعت کو زبردست دھچکا پہنچا ہے اور خدشہ ہے کہ انڈسٹری سے وابستہ ہزاروں افراد کا روزگار خطرے میں پڑجائے گا۔انڈور کھیلوں کی صنعت ابھی اپنے بالکل ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس میں روزگار کے بڑے مواقع ہیں تاہم، سندھ حکومت کے فنانس ایکٹ 2019ء کے نفاذ کے بعد 13 فیصد کا سیلز ٹیکس نافذ کردیا گیا ہے جو شق 51B کے تحت ہے جبکہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے پہلے ہی 25 فیصد انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی ٹکٹوں اور جھولوں پر عائد کر رکھی ہے جو تفریحی پارکوں میں لگائے گئے ہیں۔ دوہرے ٹیکس صنعت کے لیے حوصلہ شکنی کا باعث بن رہے ہیں اور نئے سرمایہ کار اور دیگر اپنی سرمایہ کاری کا رُخ دیگر علاقوں اور خطوں کی طرف کرسکتے ہیں جہاں اس صنعت کو مراعات دی جارہی ہیں۔ حکومت سندھ کو چاہیے کہ وہ دوہرے ٹیکسوں میں پائے جانے والی اس بے قاعدگی کو دور کرے اور مختصر مدت کے فوائد کو دیکھنے کی بجائے طویل المدت فوائد کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ذرائع نے کہا کہ حکومت سندھ کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ ملک میں صنعت کی فروغ سے معیشت کو فائدہ پہنچے۔ سندھ حکومت کو انڈور اسپورٹس اینڈ گیمز سینٹر پر عائد ای ڈی کو ختم کرنا چاہیے کیونکہ عوام کے مفاد میں انڈسٹری 13 فیصد سیلز ٹیکس سندھ ریونیو بورڈ کو دینے کے لیے رضامند ہے جو شق 51B، فنانس ایکٹ 2019ء کے تحت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کے افسران پارکوں اور تفریحی مراکز کی انتظامیہ پر ای ڈی کی وصولی کے لیے ناجائز دبائو ڈال رہے ہیں جو ایک غیر منصفانہ اور غیر قانونی دوہرے ٹیکس کی مثال ہے۔واضح رہے کہ انٹرٹینمنٹ رولز سیکشن ٹو اے، ٹو ڈی، اور تھری وضاحت سے تفریح کی تعریف کرتے ہیں کسی بھی ایسی جگہ داخل ہونا جہاں تفریح سہولتیں فراہم کی جاتی ہوں، لیکن اس معاملے میں عوام کی تفریح اور سہولتوں کی اقسام کی وجہ سے ان کو الگ الگ حصوں میں قائم کیا گیا ہے اور یہ سہولتیں انڈور گیمز مراکز میں فراہم کی جاتی ہیں، اس طرح انٹرٹیمنمنٹ ڈیوٹی جو ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے لگائی ہے وہ دوہرے اندراج کے زمرے میں آتی ہے اور انڈسٹری کی تباہی کا باعث ہے۔ پہلے داخل ہونے پر پھر تفریحی سہولتوں سے لطف اندوز ہونے پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام میں پہلے ہی تفریح کو سب سے آخری ترجیح دی جاتی ہے اور اب تفریح مہنگی ہونے سے انڈور اسپورٹس اینڈ گیمز انڈسٹری کی افادیت بالکل ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں دوہرے ٹیکس کو ختم کیا گیا ہے جس میں فنانس ایکٹ 1965ء کے تحت ہوٹل کے بیڈ ٹیکس کو سیلز ٹیکس کے اجراء کے بعد سندھ حکومت نے ختم کیا تھا جبکہ حکومت پنجاب بھی انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی وصول نہیں کرتی ہے اور رواں سال سے صرف پی آر اے کے تحت سیلز ٹیکس لیا جاتا ہے۔