وزیراعظم نے بلاشبہ مشیربرائے تجارت کا بہترین انتخاب کیا

29

کراچی (اسٹاف رپورٹر)عبدالرازق دائود ، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل، انڈسٹریزو پروڈکشن اینڈ انوسٹمنٹ ایک کھرے ، اصول پسند، انتہائی قابل انسان، معروف اور محب وطن کاروباری شخصیت ہیں اور ملک کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں۔وہ انتہائی محنتی، مخلص اور عملی شخصیت کے حامل ہیں اور ان کے تجربہ اور قابلیت کی بنیاد پروزیر اعظم عمران خان نے بلاشبہ بحیثیت مشیربرائے تجارت، ٹیکسٹائل، انڈسٹریزو پروڈکشن اینڈ انوسٹمنٹ ان کا بہترین انتخاب کیا۔یہ مشترکہ بیان محمد زیبر موتی والا ، چیئرمین ، کونسل آف آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز، محمد جاوید بلوانی، چیئرمین ،پاکستان اپیرئل فورم، جنید ماکڈا، سابق صدر، پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، اسلم کارساز، زونل چیئرمین، پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، شیخ شفیق، چیف کوآرڈینیٹر ، پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، پرویز لالہ، چیئرمین، آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن، کامران چاندنہ، چیئرمین ، پاکستان نٹ ویئر اینڈسوئیٹرز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن اور خواجہ عثمان، چیئرمین ، پاکستان کاٹن فیشن اپیرئل مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے دیا۔ انھوں نے ایک ٹریڈ باڈی کی طرف وزیر اعظم کے مشیر رزاق دائود کے خلاف دیے گئے منفی بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے نامناسب قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں رزاق دائو د مشرف حکومت میں کابینہ کا حصہ تھے اور بحیثیت وزیر انھوں نے فعال اور متحرک کردار ادا کیا ۔
اور اب وزیر اعظم عمران خان کی حکومت میں اسی جوش اور جذبہ کے ساتھ ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں جسے ملک کی بزنس اینڈ انڈسٹرئیل کمیونٹی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔رزاق دائود نے پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات مستحکم کرنے کے لیے ٹھوس عملی اقدات کیے ہیں ۔ اس حوالے سے انھوں نے اہم ممالک میں ٹریڈ آفیسرز کو میرٹ پر تعینات کیا ہے جن کوتجارت بڑھانے کے لیے اہداف دیے گئے ہیں۔اقتصادی اشاریے بھی یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ رزاق داود کی نگرانی میںکامرس ڈویژن تجارتی خسارے کو 15.3فیصدسے کم کرنے کے 31.8بلین ڈالرز کی سطح تک لانے میں کامیاب رہا ہے۔پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق مجموعی طور پر تجارتی خسارہ جو گذشتہ سال کے دوران 37.6بلین ڈالرز تھا مالی سال 2018-2019کے اختتام پرگھٹ کر 31.8بلین ڈالرز ہو چکا ہے۔اس طرح تجارتی خسارے میں 5.8بلین ڈالرز کی کمی واقع ہوئی ہے۔رواں مالی سال 2019-2020میں بھی برآمدات میں تیزی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ رزاق دائود نے ہمیشہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری رکھا ہے اور حکومت میں قائم شدہ اور نئی تشکیل دی گئی کمیٹیوں، کونسلز اور ٹاسک فورس میں ٹریڈ آرگنائزیشن سے نمائندوں کو نامزد کیا گیا۔ وفاقی بجٹ سے قبل مختلف اجلاس میں مشیر تجارت رزاق دائود نے ٹریڈ آرگنائزیشنز سے تجاویز طلب کیں اور انھیں حکومت کوجائزہ کے لیے پیش کیا۔رزاق دائود نے ایکسپورٹرز کے موقف کی تائید کی تھی کہ پانچ بڑے ایکسپورٹ سیکٹرز پر 17فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ کے بجائے کم شرح پر سیلز ٹیکس متعارف کرایا جائے۔اسی طرح انھوں نے ایکسپورٹرز کو ایکسپورٹ پیکج کے حوالے سے ڈیوٹی درابینک آن ٹیکسس ، ریفنڈز اور دیگر معاملات اور مسائل پرحکومت کے سامنے ایکسپورٹرزکی ترجمانی کی۔ان کی سفارشات کے باعث پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پانچ بڑے ایکسپورٹ سیکٹرز کے لیے گیس کے علیحدہ نرخ مقرر کیے گئے۔انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق دائود پر پاکستان کی بزنس و انڈسٹرئیل کمیونٹی کو مکمل اعتماد ہے اور وزیر اعظم پاکستان نے انھیں مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل، انڈسٹریزو پروڈکشن اینڈ انوسٹمنٹ کے اہم قلمدان دیے جس کے لیے ان کی شخصیت ہر طرح سے پوری اترتی ہے۔