سکھر،تاجراورحکومت کے مذاکرات ناکام ،شٹرڈائون ہڑتال کافیصلہ

37

سکھر( نمائندہ جسارت) تاجروں اور حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے تاجروں نے 28 اور 29 اکتوبر کو ملک بھر میں دو روزہ شٹر ڈائون ہڑتال کا اعلان کردیا اس سلسلے میں آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے چیئرمین ، آل پاکستان انجمن تاجران کے سرپرست اعلیٰ اور آل سکھر اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے بانی و قائد حاجی محمد ہارون میمن نے اسلام آباد سے فون پر سکھر کے تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکسز کے معاملات اور کاروبار کیلیے شناختی کارڈ کی شرط اور دیگر جائز مطالبات حکومت کے سامنے رکھے مگر حکومت مسلسل ٹال مٹول وقت گزاری اور مختلف حیلے بہانوں سے کام لے رہی ہے حکومت کی جانب سے یقین دہانیوں کے بعد ہم نے دو ماہ قبل احتجاج و ہڑتال مؤخر کی تھی اور اس کے بعد مذاکرات بھی ہوئے مگر حکومتی نمائندے تاجروں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوتے نہیں دیکھ سکتے انہوں نے کہا کہ ٹیکسز کی بھرمار کی وجہ سے تاجر طبقے کی مشکلات انتہائی بڑھ چکی ہے ملک میں معاشی عدم استحکام کا دور دورہ ہے حالت یہ ہے کہ کاروباری مراکز میں سناٹے چھائے ہوئے ہیں کاروباری سرگرمیوں پر جمود طاری ہونے سے مزدور طبقہ بھی روزگار نہ ملنے کے باعث معاشی پریشانی میں مبتلا ہے ۔ انہوں نے ملک بھر کی تاجر برادری کے اتحاد و یکجہتی کو سلام پیش کرتے ہیں کہ تاجر برادری نے اپنے حقوق کیلیے ہمیشہ پرامن جدوجہد کی ہے اسلام آباد کی طرف تاجروں کا مارچ اور احتجاجی دھرنا ہمارا آئینی قانونی اور اخلاقی حق ہے ان شا اللہ ہماری جدوجہد کے نتیجے میں تاجر برادری کو ان کے حق ضرور ملیں گے حکومت نے تاجر برادری کو کئی مرتبہ دھوکے دے کر اعلان کردہ احتجاج و ہڑتال ملتوی کروائی ہم نے پراعتماد اور مخلص طریقے سے مذاکرات میں حصہ لیا مگر حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نمائندے کوئی لچک دکھانے کو تیار نہیں ہے جس کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے اور اب آل پاکستان انجمن تاجران میں شامل ملک بھر کی تاجر تنظیمات نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ 28 اور 29 اکتوبر کو ملک بھر میں پرامن شٹر ڈائون ہڑتال ہوگی۔