سندھ کے حقوق پر کوئی سودے بازی قبول نہیں، عبدالمجید نظامانی

27

نوابشاہ (سٹی رپورٹر) وفاق نے ارسا (انڈس ریور سسٹم اتھارٹی) میں سندھ کے کوٹے پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو نمائندگی دینے کے سندھ کے وزیراعلیٰ کی سفارشات کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ سندھ آبادگار بورڈ کے چیئرمین عبدالمجید نظامانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے حقوق پر کسی قسم کی سودے بازی قبول نہیں کریں گے۔ وفاقی وزیر نے اپنے ایک لاڈلے کو نوازا ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہیے کیونکہ یہ عمل سپریم کورٹ کے احکامات کی نہ صرف خلاف ورزی ئے بلکہ آئینی اور قانونی طور پر سندھ کے ساتھ نا انصافی ہے۔ وفاقی وزیر برائے پانی ریسورس نے خاموشی سے وزیراعظم کو خط ارسال کیے حالانکہ وزیراعلیٰ نے 11 جولائی انجینئر ظہیر حیدر شاہ، زاہد حسین جونیجو، جام مٹھا خان کے نام دیے اس خط کو دو ماہ تک دبائے رکھا اور اب وفاقی وزیر فیصل واڈا نے وزیراعظم کو اپنے من پسند افراد کے نام دیے ہیں اور اپنے من پسند فرد اسجد امتیاز علی کو نامزد کرکے سندھ کے حقوق پر سودے بازی کی گئی جو کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان عمران خان سے کہتے ہیں کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کریں کیونکہ فیصل واڈا نے پہلے بھی وزیراعظم کو اسجد امتیاز علی کو نامزد کرنے پر وزیراعظم کو سفارش کی تھی لیکن۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کی سفارش پر اسجد امتیاز علی کے نام کو رد کردیا تھا۔ لہٰذا 10 جولائی 2000ء کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے ارسا میں وفاق کا ممبر سندھ سے لیا جائے، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ تقریری بغیر کسی اشتہار کے انٹرویو کیے جا رہے ہیں۔