شامی سرحد پر ترک فوجی آپریشن شروع، کرد ملیشیا کا اعلان جنگ

64
انقرہ: ترک صدر شامی سرحد پر فوجی آپریشن کا اعلان کررہے ہیں‘ فوج علاقے میں کارروائی کے لیے روانہ ہو رہی ہے‘ شمال مشرقی شام کے باشندے نقل مکانی کررہے ہیں
انقرہ: ترک صدر شامی سرحد پر فوجی آپریشن کا اعلان کررہے ہیں‘ فوج علاقے میں کارروائی کے لیے روانہ ہو رہی ہے‘ شمال مشرقی شام کے باشندے نقل مکانی کررہے ہیں

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اِردوان نے شمال مشرقی شام میں محفوظ علاقے کے قیام اور دہشت گرد تنظیم داعش سمیت کرد ملیشیا کے خلاف آپریشن کے لیے فوجی کارروائی کا اعلان کردیا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس سے قبل صدر اِردوان کے ایک قریبی ساتھی نے بدھ کے روز علی الصبح اعلان کیا تھا کہ ترک فورسز اپنی معاون ملیشیاؤں کے ساتھ کچھ ہی دیر یں شامی سرحد عبور کریں گی۔ یہ پیش رفت شام کے شمالی حصے سے امریکی فورسز کے غیر متوقع انخلا کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر امریکا کے اندر سے بھی بہت زیادہ تنقید کی جا رہی ہے جبکہ کرد ملیشیا نے اس فیصلے کو کُردوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ترکی نے تازہ اقدام سے ایک روز قبل ہی شامی عراقی سرحد پر کارروائی کی تھی اور اس حوالے سے بتایا تھا کہ اس کا مقصد کُرد فورسز کو شام کے شمالی حصے کی طرف جانے سے روکنا تھا، جہاں وہ اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش میں ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اِردوان کے کمیونی کیشن ڈائریکٹر فخرتن التون نے کرد ملیشیا وائی پی جی کے جنگجوؤں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ملیشیا سے الگ ہو جائیں ورنہ انقرہ انہیں داعش کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ بننے نہیں دے گی۔ فوجی کارروائی کے حوالے سے ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ شمال مشرقی شام میں شروع کیے گئے آپریشن سے متعلق دمشق حکومت سمیت متعلقہ ممالک کو آگاہ کردیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاحدگی پسند دہشت گرد تنظیم وائی پی جی ؍ پی کے کے کا اصل مقصد شام کو تقسیم کرنا ہے جبکہ ہم شام کی سالمیت کے خواہاں ہیں۔ دوسری جانب امریکی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے عالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک فوج کے شامی زمین پر داخل ہونے کی صورت میں انسانی المیہ جنم لے گا۔ دریں اثنا شامی حکومت کے مخالف جنگجوؤں پر مشتمل شامی نیشنل فورسز نے اعلان کیا ہے کہ وہ ترک مسلح افواج کے ساتھ شانہ بشانہ ہوں گی اور کسی بھی آپریشن مدد کے لیے بالکل تیار ہیں۔ اُدھر کردوں کے زیر اثر انتظامیہ نے ترکی سے متصل سرحد پر اپنے جنگجوؤں کی تعیناتی شروع کردی ہے۔ اس حوالے سے اعلان کیا گیا ہے کہ ترکی کی فوج کے خلاف مزاحمت کے لیے جنگجو گروپ سرحد کی جانب پیش قدمی جاری رکھیں گے۔ عرب ٹی وی کے مطابق شام کے شمال میں کردوں کی خودمختار انتظامیہ نے ملک کے شمال اور مشرقی حصے میں تین روز کے لیے اعلان جنگ کردیا ہے۔ اس حوالے سے انتظامیہ نے کہا ہے کہ کسی بھی قسم کے خراب حالات کی ذمے داری اقوام متحدہ، امریکا، یورپی یونین، روس اور شام کے معاملے میں فیصلوں پر اثر رکھنے والے تمام فریقوں پر عائد ہوگی۔ علاوہ ازیں ایران نے شام کی سرحد پر ترک آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ترکی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرے۔ ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیر خارجہ جواد ظریف نے ترک ہم منصب سے ٹیلی فون پر گفتگو میں واضح کیا ہے کہ ایران شام میں عسکری آپریشن کی مخالفت کرتا ہے۔ دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ماسکو شام کے شمال مشرق میں تازہ صورت حال کے حوالے سے شامی حکومت اور کردوں کے درمیان بات چیت کی دعوت دیتا ہے۔ انہوں نے بدھ کے روز قزاقستان کے دارالحکومت نور سلطان میں مزید کہا کہ شام میں کردوں کے زیر قبضہ علاقوں میں کشیدگی میں اضافے سے گریز کرنا چاہیے۔ عرب ٹی وی کے مطابق ایرانی طلبہ کی خبر رساں ایجنسی اِسنا نے بتایا ہے کہ ایرانی فوج نے ملک کے شمال مغرب میں ترکی کے ساتھ سرحد پر غیر اعلانیہ فوجی مشقوں کا آغاز کردیا ہے۔ اس حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ اس مشق میں ریپڈ ایکشن یونٹس اور دیگر بریگیڈز کے علاوہ زمینی افواج کے فضائی یونٹ کے زیر انتظام ہیلی کاپٹرز بھی شریک ہیں۔ واضح رہے کہ ترکی وائی پی جی کو کالعدم کُرد تنظیم کردستان ورکرز پارٹی ہی کا ایک حصہ اور دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ اس سے قبل ترکی واضح کرچکا ہے کہ کہ وہ شام کی ترکی کے ساتھ لگنے والی سرحد کے قریب محفوظ علاقہ قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ وہاں ترکی میں پناہ لیے ہوئے شامی مہاجرین کو بسایا جا سکے، تاہم اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی طرف سے ترکی کو کسی فوجی کارروائی سے خبردار کیا گیا ہے۔