کورکمانڈرز کا حوصلہ افزا بیان

118

دنیا کی ہر فوج اپنے ملک کے دفاع اور بقا کے لیے جنگ لڑتی ہے، اِسی طرح سے ہر قوم بھی اپنی مسلح افواج سے محبت اور احترام کرتی ہے، تاہم پاکستان کی مسلح افواج سے عوام کی محبت جذباتی حد تک بے مثال اور لاجواب ہے۔ جس کی دو بنیادی وجوہات ہیں، اوّل یہ کہ پاکستان کی فوج محض کوئی روایتی فوج نہیں بلکہ یہ ایک نظریے (اسلام) کی محافظ فوج تصور کی جاتی ہے اور دوم یہ کہ اس فوج کے قطعاً کوئی جارحانہ یا توسیع پسندانہ عزائم نہیں۔ پاکستانی فوج نے آزادی سے لے کر آج تک یعنی 72 برسوں میں کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف کوئی جارحیت نہیں کی، کسی کے علاقے پر قبضہ کرنے کے لیے کوئی حملہ نہیں کیا اور نہ ہی فوجی تھریٹ دے کر اپنے کسی خاص مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی۔ پاکستانی فوج کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ خطے میں امن و استحکام رہے، تنازعات اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے، پاکستانی فوج نے نہ صرف علاقائی امن کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں بلکہ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں فوجی دستے شامل کرکے عالمی امن کو یقینی بنانے کے لیے بھی یادگار کردار ادا کیا۔ انسداد دہشت گردی کی عالمی جنگ جو بدقسمتی سے پاکستان کے پڑوس میں لڑی گئی اُس میں بھی پاکستانی فوج اور عوام کی قربانیاں امریکی و ناٹو ممالک کی فوج اور عوام سے کہیں زیادہ اور بڑھ کر ہیں۔ پاکستانی فوج نے بھارت، چین، افغانستان اور ایران کی پڑوسی فوج ہونے کے ناتے سے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ سرحدوں پر امن رہے، زمینی اور سمندری تجارتی راستوں کی حفاظت کی ہے، پڑوسی ممالک کے شہریوں کی قانونی نقل و حرکت کو بھی تحفظ فراہم کیا ہے۔ اسمگلنگ اور ہر طرح کے غیر قانونی سرگرمیوں کو ممکن حد تک روکنے کے لیے چوکس رہی۔ لاکھوں افغان مہاجرین کو گزشتہ 40 برس پاک سرزمین پر پناہ فراہم کرنے میں بھی پاکستانی فوج کا ہمدردانہ کردار ہے۔ پاکستان کی عسکری قیادت گردوپیش کے خطرات سے آگاہ ہونے کے باوجود پرامن رہی، بھبکیوں اور دھمکیوں کو نظر انداز کرنا اور ممکن حد تک دشمن کے ناپاک ارادوں کو برداشت کرتے رہنے کا حوصلہ پاکستان کی فوجی قیادت میں بدرجہ اتم رہا۔
پاکستانی فوج کی امن خواہش کے باوجود افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ ہمارا پڑوسی ملک بھارت پاکستانی فوج کے اس مثبت اور قابل قدر کردار کو ہمیشہ نظر انداز کرتا رہا۔ بھارتی حکمرانوں اور جرنیلوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ کس طرح سے پاکستان کو نقصان پہنچایا جائے جس کی خاص وجہ یہ ہے کہ 1947ء میں تقسیم ہند کا زخم اور صدمہ آج تک بھارتی قیادت کو بھولا نہیں، کیوں کہ 1947ء میں ہندوستان کو تقسیم اور پاکستان کا معرض وجود میں آنا ایک فطری عمل اور نظریاتی ضرورت تھی۔ ’’دو قومی نظریہ‘‘ زمینی حقائق اور مذہبی عقاید کے مطابق تھا تاہم ہندو اور انگریز قائدین قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت اور دلاائل کے سامنے ناکام اور بے بس ہوگئے مگر انہوں نے انتہائی گہری سازش کے ذریعے پاکستان کی شہ رگ (مقبوضہ کشمیر) پر تلوار ضرور رکھ دی۔ مقبوضہ کشمیر جو تاریخ، آبادی اور جغرافیے سمیت ہر حوالے سے پاکستان کا حصہ ہے اُس کو ہتھیانے کے لیے بھارتی حکمرانوں اور جرنیلوں نے ہمیشہ انتہائی بزدلانہ اور بدنیتی پر مبنی وار کیا۔ کبھی تو اقوام متحدہ میں دھوکا دے کر سیز فائر کرادیا۔ قرار دادوں کو تسلیم کیا مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہونے دیا اور اسی طرح سے بھارتی فوج نے بھی 65ء میں پاکستان پر اچانک حملہ کردیا، جب دانت ٹوٹے تو تاشقند معاہدے کی آڑ میں واپس بھاگ گئے، تاہم اندر کا ہندو خود کو کاٹتا رہا۔ 71ء میں روس اور امریکا کی مدد سے مشرقی پاکستان پر حملہ کردیا گیا۔ پاکستان کے اندر سے بھی کچھ میرجعفر اور میر صادق نیو دہلی کو مل گئے اور یوں بھارتی فوج مشرقی پاکستان توڑنے میں کامیاب ہوگئی جو آج بنگلادیش ہے۔
’’مشرقی پاکستان‘‘ کے بنگلادیش بن جانے کے بعد بھارتی حکمرانوں کا حوصلہ بلند ہوا اور وہ سمجھے کہ شاید اب مقبوضہ کشمیر کو بھی ہڑپ کرنا آسان ہوجائے گا۔ اندرا گاندھی کے بعد کسی بھی بھارتی وزیراعظم نے یہ حماقت نہیں کی کہ وہ ایسا کوئی احمقانہ قدم اٹھائے جس سے بھارت کی سلامتی اور داخلی امن بھی دائو پر لگ جائے، تاہم بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے وہ کام کر دیکھایا جو اِ س سے پہلے کسی دوسرے وزیراعظم نے نہیں کیا۔ 5 اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ قرار دے دیا گیا اور یوں وزیراعظم مودی کے اپنے ماتھے پر لگا تلک کالا دھبا بن کر اُس کے چہرے پر پھیل گیا جس کے بعد دور سے دیکھ کر ہی پہچان لیا جاتا ہے کہ وہ مودی جارہا ہے۔
پاکستانی فوج نے ’’مسئلہ کشمیر‘‘ پر ہمیشہ دوطرفہ مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی، پاکستان کی عسکری قیادات نے خطے کے امن و استحکام کی خاطر پاک بھارت ممکنہ جنگ کو روکے رکھنے کے لیے انتہائی صبر و تحمل سے کام لیا، حالاں کہ بھارت کے ساتھ جنگ کرنا فرض بھی تھا اور قرض بھی ہے۔ ڈھاکا سے سری نگر تک بسنے والا خون قصاص مانگ رہا تھا اور مظلومین کی آہ و بکا مجبور کررہی ہے کہ بھارت کے ساتھ آمنا سامنا ہو، میدان جنگ گرم ہو، پرانے حساب چکائے جائیں اور نئی تاریخ رقم کی جائے۔ سابقہ اور موجودہ حالات و واقعات کے تقاضوں کے برعکس پاک فوج نے برداشت اور احتیاط سے کام لیا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانیں گے جب تک بھارتی فوج کا میدان جنگ میں ناک رگڑی نہیں جائے گی تب تک دہلی سرکار کو بھی ہوش کے ناخن نہیں آئیں گے۔ لہٰذا اِس تمام صورتِ حال اور پیش آمدہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں ’’جی ایچ کیو‘‘ (راولپنڈی) میں کورکمانڈرز اجلاس کے اندر یہ جو کہا گیا کہ ’’کشمیریوں کی حق خودارادیت پر سمجھوتا نہیں ہوگا، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کسی بھی بھارتی ایڈونچر کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، مادر وطن کے دفاع کے لیے مکمل تیار ہیں، بھارتی کمانڈرز کے غیر ذمے دارانہ بیانات کا بھی جارحانہ جواب دیں گے‘‘۔ بہت ٹھیک فیصلہ اور حوصلہ افزا بیان ہے، پوری قوم پاک فوج اور کورکمانڈرز کے ساتھ کھڑی ہے۔ دُعا ہے اور ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے، بھارت کی طرف جب بھی پیش قدمی ہوگی اُسے عوام کی بے پناہ حمایت اور بھرپور تائید حاصل ہوگی۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ پاکستان کی بہادر افواج کو بھارت کے مقابلے میں فتح بین عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین