مسلمان تھوکتے ہیں…!

107

ممتاز میر
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی ۔ علامہ اقبالؒ نے یہ شعر قریب سو سال پہلے کہا تھا۔ جب پہلی بار یہ شعر پڑھا تھا تو سر سے گزر گیا تھا۔ اب دہائیاں گزر گئیں یہ سوچتے ہوئے کہ علامہ نے ایسی کیا چیز دیکھ لی تھی جس نے ان کے قلم سے یہ شعر نکلوا دیا۔ یہ باتیں ہمیں ممبئی اردو نیوز کے محترم مدیر کا کالم ’’جب پوری دنیا ننگی ہو کر گھومے گی‘‘۔ پڑھ کر یاد آگئیں۔ ساتھ ہی ہمیں ان سے کچھ شکایتیں بھی پیدا ہوئیں۔ پہلی شکایت تو یہ ہے کہ یہ کالم لکھنے کی ضرورت کیا تھی؟ ہمیں غافل ہی رہنے دیتے۔ موضوع نہیں مل رہا تھا تو ہم سے پوچھ لیتے۔ ارے بھائی۔ اب اس عمر میں امریکا کون جائے؟ہمارا تو پاسپورٹ ہی چند دنوں میں ایکسپائر ہو رہا ہے۔ اور پاسپورٹ کی بات کیا، خود ہماری ایکسپائری ڈیٹ قریب آگئی ہے۔ اس لیے ہمارا خیال ہے کہ مدیر محترم کو کچھ دن انتظار کر لینا تھا یا پھر کافی پہلے یہ اطلاع دے دیتے۔مگر مدیر محترم نے ساتھ ساتھ ایک چیلنج بھی دے دیا ہے کہ جی سکتے ہو تو جی لو، یہ تحریک چند دنوں میں تمہارے یہاں بھی گل افشانیاں کرے گی۔
دوسری شکایت ہم ایک مثال سے سمجھاتے ہیں۔ پانی کا ایک گلاس ہے جو آدھا بھرا ہوا ہے۔ کسی سے پوچھیں۔ کسی ایسے سے جو شکایتیں کرنے کا عادی ہے تو کہے گا کہ پانی کا گلاس آدھا خالی ہے مگر کسی خوش گمان سے پوچھیں تو کہے گا پانی کا گلاس آدھا بھرا ہوا ہے۔ مدیر محترم نے اپنے اس کالم میں امریکی خواتین میں چلنے والی ٹاپ لیس تحریک کے تعلق سے اظہار ناراضی کیا ہے۔ ٹاپ لیس مطلب خواتین یہ چاہتی ہیں کہ انہیں کمر کے اوپر کے جسم سے ننگا رہنے کی اجازت دی جائے۔ اور امریکی عدالت نے امریکا کی چھ ریاستوں کی خواتین کو یہ اجازت بھی دے دی ہے، جس پر مدیر محترم نے عدالت کو برا بھلا کہا ہے۔ یہ غلط ہے۔ بہت بری بات ہے۔ انہیں کیا ہم سب کو چاہیے کہ ٹاپ لیس تحریک چلانے والی خواتین اور ان کے حق میں فیصلہ دینے والی عدالت کا احسان مانیں۔ اس لیے نہیں کہ اگر مدیر محترم کی خواہش کے مطابق ہو گیا ہوتا تو ہمارے بلکہ دنیا کے بہت سارے حضرات، آنکھوں کو نور اور دل کو سرور بخشنے والے نظاروں سے محروم ہوجاتے، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے ’’صرف‘‘ ٹاپ لیس ہونے کی خواہش کا تو اظہار کیا ہے۔ ارے بھائی! اگر وہ سب کچھ لیس یا ڈریس لیس ہونے کا حق مانگ لیتی تو کوئی کیا کرلیتا۔ ظاہر ہے عدالت دے بھی دیتی۔ اور عدالت کا خصوصی شکریہ اس لیے ادا کیا جانا چاہیے کہ اس نے بن مانگے کچھ نہ دیا ورنہ ہمارے یہاں تو حالت یہ ہے ’’وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا‘‘۔ عدالت اس پر بھی فیصلہ سنا دیتی ہے اور نہ عدلیہ کے کانوں میں جوں رینگتی ہے نہ مقننہ کے۔ اب امریکی عدالتوں کی حالت بھی سن لیجیے۔ ان کی competency کے لیے ہمارے نزدیک اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ جو عافیہ صدیقی جیسی کمزور پاکستانی لڑکی پر لگائے گئے اس الزام پر یقین کرلے کہ وہ امریکی فوج کے مسلح کمانڈوز پر نہتے ہاتھوں سے (نہتے ہاتھ اس لیے کہ وہ مارشل آرٹ بھی نہ جانتی تھی کہ خالی ہاتھ قتل کردیتی) قاتلانہ حملہ کر رہی تھی۔ ویسے ہم مدیر محترم کے شکر گزار ہیں کہ ان کی دی ہوئی خبر سے ہم پر یہ راز آشکارہ ہوا کہ مودی جی دوڑے دوڑے امریکا بار بار کیوں جاتے ہیں۔ کتنی حسین یکسانیت ہے امریکا اور انڈیا کے سربراہوں میں۔ دونوں کی رنگین زندگی بڑی مشہور ہے۔
یہ ہے وہ تہذیب جس کے تعلق سے امریکی صدر جونئر بش نے ۹؍۱۱ کا ڈراما کروانے کے بعد مسلم ممالک پر حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ہماری تہذیب سے جلتے ہیں۔ مسلمان تھوکتے ہیں ایسی تہذیب پر۔