کشمیر کی آزادی تک

96

سید فراست شاہ
’’اللہ کا حکم نہیں ہوا‘‘ اور ’’اس کی نصرت شامل ِ حال نہ ہوئی‘‘۔ یہ دونوں ہی جملے کسی کام کے نہ ہونے کے لیے سراسر حق پر مبنی ہیں۔ تاہم، یہی دو جملے نااہل اور ناکارہ لوگ اپنی ناکامی اور محرومی کے لیے جواز کے طور پر بھی پیش کرتے ہیں۔ یا پھر ایسا کہنا کہ ’’یہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے‘‘۔ یہ جملہ بھی پہلے دو جملوں کی طرح غیر فعال اور کمزور لوگ اور قومیں اپنی کمتر حالت کی توجیح میں پیش کرتی ہیں۔ تاہم، یہ آخری جملہ بہرحال ایک بالکل درست جملہ ہے اور کئی اعتبار سے حقیقت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ کیونکہ آزمائش انسانوں پر اور اقوام پر ان کی اپنی کمزوری اور غیرفعالیت کی بنا پر بھی تو آتی ہے، اور یہ بھی کہ اللہ کی طرف سے آزمائش تو پیغمبروں پر بھی آتی رہی ہے، اس کے باوجود کہ اپنے اعمال کے معیار میں وہ اعلیٰ ترین سطح پر ہیں۔ بہرحال آزمائش اچھے اور فعال لوگوں پر آئے یا بْرے، غیر فعال افراد اور قوموں پر۔ اس میں تجدید اور اصلاح کے لیے سبق موجود ہوتے ہیں۔ یہ ایک طرح کی ورزش بھی ہوتی ہے جس میں کچھ تکلیف برداشت کرکے کوئی اپنے آپ کو زیادہ مضبوط اور توانا بنا سکتا ہے، اسی طرح آزمائش سے گزرنے والے لوگ ہی سخت حالات کا سامنا کرنے کے لیے زیادہ تیار ہوتے ہیں اور آزمائشوں کا سامنا کرنے والی قومیں بھی زیادہ توانا ہو جاتی ہیں اور بڑے بڑے کام کرنے کے لیے تیار ہوجاتی ہیں۔ وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے، گویا گر پڑ کر اور آزمائشوں کا سامنا کرنے ہی سے انسان اور اقوام کھڑی ہوتی ہیں۔
اوپر کی بحث سے ہم وہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں، جو سوچ کا ایک مثبت انداز وضع کرے گا کہ پاکستانی قوم بشمول کشمیری بڑی آزمائشوں سے گزر کر یہاں تک پہنچی ہے۔ جو ہوچکا سو ہوچکا اب آگے کا سفر پْر اعتماد انداز میں طے کرنا ہے، اور یہ بھی کہ جو کچھ ہم پر گزری اس سے سیکھتے ہوئے، جو کچھ دھوکے اور فریب ہم سے کیے جاتے رہے اس سے عقل کے ناخن لیتے ہوئے، جو کچھ کمزوریاں رہیں ان کی اصلاح پر توجّہ دیتے ہوئے یہ سوچ کرآگے بڑھنا ہے کہ ایک خون آشام دور سے گزر کر ہم زیادہ توانا اور زیادہ زیرک ہوگئے ہیں۔
مزید یہ کہ لگ بھگ 15برس پاکستانی قوم نے ایک طرح کی اندرونی جنگ میں گزارے ہیں۔ اس دور میں ہمارے عوام اور افواج خاصے سخت جان ہوچکے ہیں۔ عموماً ایسے حالات سے گزر کر قومیں تعمیر وترقی کا سفر زیادہ مستعدی سے طے کرتی ہیں۔ امریکا کی سول وار ہو یا چین اور روس کے انقلابات، ایک سخت دور سے گزر کر ان قوموں نے ترقی کا سفر شروع کیا اور اس کی بلندیوں کو چھولیا۔ ایران کا اسلامی انقلاب غالباً جدید دور کا آخری قابلِ ذکر انقلاب ہے۔ لہٰذا حالات اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستانی قوم ایک اہم موڑ پر پہنچ چلی ہے جہاں سے آگے کا سفر ترقی کا سفر بن سکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ چند دیرینہ مسائل کے حل کی طرف بھی پیش قدمی ہوسکتی ہے جس میں کشمیر کا قضیہ سرِفہرست ہے۔
کشمیر کے معاملے میں کچھ ایسا ہوا ہے کہ ایک اہم ترین انسانی مسئلہ جو سال ہا سال دنیا کی نظروں سے اوجھل رہا، چند بھارتی عاقبت نااندیش سیاستدانوں کے غیر ذمے دارانہ فیصلوں نے اس معاملے کو دنیا بھر کے سیاسی ایوانوں اور بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کے مباحث میں شامل کردیا ہے۔ شاید پاکستان کی بہت زیادہ کوشش بھی وہ کام نہ کرپاتی جو بھارتی حکومت کے کشمیر سے متعلق حالیہ فیصلوں اور اقدامات نے کردیا ہے۔ آپ اس دور کا1939-45 کے دور کے یورپ سے موازانہ کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ آج کے بھارت اور اس دور کے یورپ میں ہونے والے واقعات اور اس پر دنیا کا ردّعمل ملتا جلتا ہے۔ یورپ کے حالات پر خود یورپ کو اور دنیا کو بیدار ہونے میں کئی برس لگے۔
میں 2018 میں پہلی بار جرمنی گیا۔ جرمنی میں قیام کے دوران جب میں ان مقامات پر گیا جہاں نازی دور کے عقوبت خانے اور کنسنٹریشن کیمپس ہوا کرتے تھے تو یقینا اس انسانی المیے کے متعلق میرے احساسات میں ایک بڑی تبدیلی آئی۔ میں نے Bergen-Belsen کیمپ کے میدان میں جہاں ہزاروں افراد کی مشترکہ قبریں موجود ہیں، اس کرب کو محسوس کیا اور اس تڑپ نے میرے دل کو چھولیا جو یہاں پر قید کیے گئے اور ستائے گئے۔ میں نے ان الفاظ کی بازگشت سنی جو اس سانحے کے گزر جانے کے بعد اقوامِ عالم میں مقبول ہوا۔ Not Again وہاں میں نے ایک برطانوی سپاہی کے ریکارڈ کیے ہوئے یہ الفاظ سنے جو اس نے اس مقام پر برطانوی فوجوں کے قبضے کے فوراً بعد کہے، اس کے الفاظ کچھ یوں تھے، ’’میں نہیں جانتا کہ یہ لوگ یہاں پر کیا کرتے رہے ہیں، میں بس اتنا جان گیا ہوں کہ میں جس مقصد کے لیے جنگ میں شریک ہوں وہ درست ہے‘‘۔ یہ اخلاقی قوّت کسی بھی جنگ یا معرکے میں فتح حاصل کرنے میں بہت مددگار ہوتی ہے اور آج پاکستانیوں اور پاکستانی افواج کو اپنی سخت کوش تربیت کے علاوہ یہ برتری بھی حاصل ہے کہ اگر کشمیر کے معاملے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی معرکہ ہوتاہے تو
گربازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دور ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں
غالباً یہ اخلاقی برتری کی صورتِ اتنے شدید انداز میں کبھی بھی پاکستان کو حاصل نہ رہی ہوگی جو کشمیر اور بھارت کے حالات کی بنا پر آج ہمیں حاصل ہے۔ جنگیں تو بھارت اور پاکستان کے درمیان کئی بار ہوئیں مگر اب محسوس ہوتا ہے کہ اللہ کی نصرت بھی ساتھ ہوگی اور اقوامِ عالم کا آپ کے نظریے اور اخلاقی پوزیشن کی حمایت کرنا بھی اسی نصرت کا ایک پہلو ہے۔ کیونکہ جب یہ نصرت ہوتی ہے تو انسانی رویّے کیا ہوا اور پانی بھی آپ کے معاون ومددگار ہوجاتے ہیں۔
غالباً یہ معاملہ چند زور میں حل ہونے والا نہیں اس لیے اس کے لیے طویل مدّتی تیاری اور خاصے عرصے تک کمربستہ رہنا اور مسلسل جد وجہد کرنا گی، تاکہ ہم مسئلہ کشمیر کو اور بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کو دنیا کے سامنے اجاگر کرتے رہیں۔ کشمیر کی آزادی تک دنیا کی اور بالخصوص پاکستانی قوم کی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیں۔ دنیا بھر میں ایسے ذہین اور قابل سفارت کار تعینات کیے جائیں جو پاکستانی سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسک سے، جسے قائم کرنے کا عندیہ حکومت نے دیا ہے، بھرپور اور موثر انداز میں اس مسئلہ کی سنگینی سے دنیا کو آگاہ کریں اور اسے ایک عالمی انسانی بحران کے طور پر پیش کریں اور ساری دنیا میں رائے عامہ اور حکومتی پالیسیوں پر اپنی سفارتی مہارت سے اثر انداز ہوں۔ ہم بہت عرصے تک شدّت پسندی اور دہشت گردی کے پروپگنڈے کی بنا پر بیک فٹ پر کھیلتے رہے ہیں۔ اب تقریباً ویسے ہی حالات پیدا ہورہے ہیں جو افغانستان میں روسی فوج کشی کے بعد پیدا ہوئے تھے اور پاکستان دنیا کے ممالک کی اکثریت کی آنکھوں کا تارہ بن گیا تھا۔ ایک لہر ہے جو چل پڑی ہے، اب اسے تندرفتار موج بننے تک جاری رکھنا ہے۔
دوسری جانب ہر وقت یہ اندیشہ موجود رہے گا کہ کشمیر میں حالات بہت بگڑ جائیں اور بھارت کشمیریوں پر ظلم وجبر میں اضافہ کرتا چلا جائے اور اپنا دباؤ بڑھاتا جائے۔ ایسی صورت میں پاکستان پر لازم ہوجائے گا کہ ان مظالم کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں جنگ چھڑ جائے ہر اعتبار سے اس ممکنہ صورتِ حال کے لیے تیار رہنا ضروری ہے۔ ہم اپنی عسکری اور عوامی سطح پر موجود سخت کوشی کے علاوہ اپنی اخلاقی برتری کا ذکر اوپر کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ اونٹ کو پہلے کھونٹے سے باندھنا ہے پھر اللہ پر توکل کرنا ہے۔ لہٰذا حربی ضروریات کے تناطر میں کسی بھی لمبی جنگ کی صورت میں اپنے سپلائی کے راستوں کو مضبوط کرنا اور دشمن کے سپلائی کے راستوں کو محدود کرنا نہایت اہم ہوتا ہے۔ اس ضمن میں بین الاقوامی تعلقات بہت اہم ہیں۔
اس بات پر پاکستانی قوم زیادہ غم نہ کرے کہ فلاں ملک نے مودی کو تمغا دے دیا اور فلاں سے بھارت کا تجارتی معاہدہ ہوگیا۔ جان لیجیے کہ مسلم دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں کشمیر کے مسئلے پر، عوامی سطح پر کشمیریوں سے ہمدردی اور پاکستانی موقف کی حمایت موجود ہے۔ اور یہ حمایت نہایت اہم ہوگی جب بھارت پر بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہوگا، ایسی صورت میں ان ممالک کی حکومتیں بھی جہاں کی عوام اور حکمرانوں کے درمیان بہت فاصلہ رہتا ہے، عوامی اور بین الاقوامی رائے کے خلاف نہیں جائیں گی۔ یہ بات بالکل غلط ہے کہ مسلم امّت کا تصوراب ماند پڑھ گیا ہے۔ امّت حکومتوں سے نہیں عوام سے بنتی ہے اور عوام امّتِ محمّدی کے رشتے میں مضبوطی سے جُڑے ہوئے ہیں۔