قال اللہ تعالیٰ و قال اللہ رسول اللہ ﷺ

102

اپنے گھمنڈ میں اْس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے اپنی چوپالوں میں اْس پر باتیں چھانٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے۔تو کیا اِن لوگوں نے کبھی اِس کلام پر غور نہیں کیا؟ یا وہ کوئی ایسی بات لایا ہے جو کبھی ان کے اسلاف کے پاس نہ آئی تھی؟۔یا یہ اپنے رسول سے کبھی کے واقف نہ تھے کہ (اَن جانا آدمی ہونے کے باعث) اْس سے بدکتے ہیں؟۔یا یہ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ مجنون ہے؟ نہیں، بلکہ وہ حق لایا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہے۔اور حق اگر کہیں اِن کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہو جاتا نہیں، بلکہ ہم ان کا اپنا ہی ذکر اْن کے پاس لائے ہیں اور وہ اپنے ذکر سے منہ موڑ رہے ہیں۔ کیا تْو ان سے کچھ مانگ رہا ہے؟ تیرے لیے تیرے رب کا دیا ہی بہتر ہے اور وہ بہترین رازق ہے۔ (سورۃ المؤمنون:67تا72)

سیدنا ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ؐ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو لپیٹ دیا اور میں نے اس کے مشارق و مغارب کو دیکھ لیا اور جہاں تک یہ زمین میرے لیے لپیٹی گئی عن قریب میری اُمت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی اور مجھے سرخ اور سفید دونوں خزانے (سونے اور چاندی دیے گئے اور میں نے اپنے ربّ سے اپنی اُمت کے لیے یہ سوال کیا کہ وہ اس کو عام قحط سالی سے ہلاک نہ کرے اور ان پر کوئی دشمن مسلط نہ کرے جو مجموعی طور پر ان کو ہلاک کر دے۔ میرے ربّ نے فرمایا: اے محمد ؐ! جب میں کوئی فیصلہ کردوں تو وہ رد نہیں ہوتا۔ بلاشبہ میں نے آپ کی امت کے لیے آپ کو یہ بات عطا کردی ہے کہ ان کو عام قحط سالی سے ہلاک نہیں کروں گا اور ان پر ان کے علاوہ سے کسی اور دشمن کو مسلط نہ کروں گا جو ان سب (کی جانوں) کو روا قرار دے لے۔ (مسلم)